رچرڈ بیل، مارگولیتھ اور منٹگمری واٹ کا کہنا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اللہ کو دیکھنے اور برا ہِ راست وحی وصول کرنے کا دعویٰ کیا جبکہ جبرائیل کے واسطے کا تصور بعد میں متعارف کروایا گیا۔ اور ان مستشرقین کے نزدیک وحی سے مراد تجویز یا الہام (Suggestion or Inspiration) ہے نہ کہ الفاظ یا کلام60۔ کلام الٰہی کی یہ وہی تعبیر ہے جسے قرون وسطیٰ کے بعض مسلمان متکلمین نے یونانی فلسفے سے متاثر ہو کر 'کلام نفسی' کے نام سے پیش کیا تھا۔ دوسری طرف منٹگمری واٹ کا کہنایہ بھی ہے کہ قرآن مجید کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی تصنیف قرار دینا درست نہیں ہے کیونکہ آپ کا یقین کامل تھا کہ آپ اپنی سوچ اور وحی میں فرق کر سکتے تھے:
لیکن ساتھ ہی اس کا خیال یہ بھی ہے کہ قرآن مجید الفاظ کے بغیر فکری تبادلہ خیال (simple communication of thought without words) کی کوئی صورت ہے62۔حالانکہ قرآن مجید میں ۱۲۵ مقامات ایسے ہیں جن میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ نازل شدہ کلام ہے۔ اور اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ جو نازل ہوا ہے وہ متعین الفاظ ہیں نہ