فهرس الكتاب

الصفحة 169 من 560

میرا بھائی ایسا ہے کہ اگر ہر چیز مانگے تو دے دیتا ہے اور ہر زیادتی کو معاف کردیتا ہے۔

توابوبکررضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح تھے۔

ناپسندیدہ چیزوں سے اعراض

(۲۲۸) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی اللّٰہ عنہ ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم:أَنَّہٗ کَانَ عِنْدَہٗ رَجُلٌ بِہٖ أَثَرُ صُفْرَۃٍ، قَالَ:وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لَا یَکَادُ یُوَاجِہُ أَحَدًا بِشَيْئٍ یَکْرَھُہٗ، فَلَمَّا قَامَ قَالَ لِلْقَوْمِ: (( لَوْ قُلْتُمْ لَہٗ یَدَعُ ھٰذِہِ الصُّفْرَۃَ ) [1]

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص تھا جس پر زرد (خوشبو) کا نشان تھا (جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناپسند کرتے تھے) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی آدمی کو (اپنی ذاتی وجہ سے) ناراض نہیں کرتے تھے۔جب وہ اٹھا اور (چلا گیا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: اگر تم اس سے کہہ دو کہ وہ یہ زرد (رنگ کی خوشبو) چھوڑ دے۔

(۲۲۹) عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ رَجُلًا اسْتَأْذَنَ عَلَی النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم فَقَالَ:ائْذَنُوْا لَہٗ فَبِئْسَ رَجُلُ الْعَشِیْرِ، أَوْ بِئْسَ رَجُلُ الْعَشِیْرَۃِ، فَلَمَّا دَخَلَ أَلاَنَ لَہُ الْقَوْلَ۔قَالَتْ عَائِشَۃُ:یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قُلْتَ لَہُ الَّذِيْ قُلْتَ، فَلَمَّا دَخَلَ أَلَنْتَ لَہُ الْقَوْلَ؟ قَالَ: (( یَا عَائِشَۃُ! إِنَّ شَرَّ النَّاسِ مَنْزِلَۃً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ؛ مَنْ وَدَعَہٗ أَوْتَرَکَہُ النَّاسُ اتِّقَائَ فُحْشِہٖ ) )۔صحیح [2]

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اجازت دے دو، یہ اپنے خاندان کا برا آدمی ہے جب وہ اندر داخل ہوا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے نرمی سے بات کی (جب وہ چلا گیا تو) عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!آپ نے (پہلے) وہ بات فرمائی۔ (لیکن) جب وہ اندر آیا تو آپ نے اس سے نرمی سے بات کی؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ رضی اللہ عنہا!اللہ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے برے ٹھکانے والا وہ

[2] صحیح البخاري، الأدب باب ما یجوز من اغتیاب أھل الفساد والریب: ۶۰۵۴ مسلم، البروالصلۃ باب مداراۃ من یتقیٰ فحشہ:۲۵۹۱ کلاھما من حدیث سفیان بن عیینۃ بہ۔ [السنۃ:۳۵۶۳]

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت