ہم نے کہا: نہیں' آپؐ نے فرمایا: تو (پھر) میں روزے سے ہوں۔
پھر ایک دوسرے دن تشریف لائے تو ہم نے کہا: یارسول اللہؐ! ہمیں تحفے میں حلوہ بھیجا گیا ہے تو آپ نے فرمایا: مجھے دکھاؤ میں نے تو آج روزہ رکھا تھا پھر آپ نے (روزہ افطار کرتے ہوئے) اسے کھالیا۔
(705) عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم:أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کَانَ یَعْتَکِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ، حَتّٰی تَوَفَّاہُ اللّٰہُ، ثُمَّ اعْتَکَفَ اَزْوَاجُہ، مِنْ بَعْدِہٖ۔صحیح [1]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخر ی عشرے میں اعتکاف کرتے تھے حتیٰ کہ اللہ نے آپ کی روح قبض کرلی۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کی بیویو ں نے اعتکاف کیا۔
(706) عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یُجَاوِرُ فِی الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، وَیَقُوْلُ: (( تَحَرَّوْا لَیْلَۃَ الْقَدْرِ فِی الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَّمَضَانَ ) )۔صحیح [2]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ رمضان کے آخری عشرے میں لیلۃ القدر کو تلاش کرو۔
(707) عَنْ عَائِشَۃَ أَ نَّہَا قَالَتْ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم إِذَا اعْتَکَفَ أَدْنٰی إِلَيَّ رَأْسَہ،، فَأُرَجِّلُہ، وَکَانَ لَا یَدْخُلُ الْبَیْتَ إِلاَّ لِحَاجَۃِ الْإِنْسَانِ۔صحیح [3]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کرتے تو اپنا سر (مسجد سے باہر نکال کر) میرے قریب کرتے میں اس میں کنگھی کرتی۔آپ (صرف) انسانی ضرورت (قضائے حاجت) کے لیے ہی گھر میں داخل ہوتے تھے۔
(708) عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ؛ شَدَّ مِیْزَرَہ،، وَأَحْيٰ لَیْلَہ،، وَأَیْقَظَ أَھْلَہ۔صحیح [4]
[2] صحیح البخاري:2025، مسلم:1169 من حدیث ھشام بن عروۃ بہ۔
[3] صحیح، مالک (1/312 وروایۃ أبي مصعب:860) مسلم:297 من حدیث مالک بہ۔ [السنۃ:1836]
[4] صحیح البخاري، التراویح باب العمل فی العشر الأواخر من رمضان:2524، مسلم، الإعتکاف باب الإجتھاد فی العشر الأواخر من رمضان: 1174 من حدیث سفیان بن عیینۃ بہ۔