فهرس الكتاب

الصفحة 443 من 560

باب 8:

رہبر انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کا کھانا پینا

کھانے کا مہذب طریقہ

(۹۲۷) عَنْ أَبِيْ جُحَیْفَۃَ رضی اللّٰہ عنہ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: (( لَا آکُلُ مُتَّکِئًا ) )۔صحیح [1]

سیدنا ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تکیہ لگا کر کھانا نہیں کھاتا۔

(۹۲۸) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضى اللّٰه عنہ یَقُوْلُ: أُتِيَ النَّبِيُّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بِتَمْرٍ، فَرَأَیْتُہٗ یَأْکُلُ وَھُوَ مُقْعٍ مِنَ الْجُوْعِ۔صحیح [2]

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور لائی گئی تو میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھوک کی شدت سے اقعاء کیے ہوئے (چار زانو ہو کر) اسے کھارہے تھے۔

(۹۲۹) عَنْ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ رضى اللّٰه عنہ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کَانَ یَجْثُوْا عَلٰی رُکْبَتَیْہِ، وَکَانَ لَا یَتَّکِیُٔ۔ [3]

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھٹنوں پر دوزانو بیٹھتے تھے اور تکیہ (ٹیک) نہیں لگاتے تھے۔

(۹۳۰) عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ رضی اللّٰہ عنہ قَالَ:مَا عَابَ رَسُوْلُ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم طَعَامًا قَطُّ، إِنِ اشْتَھَاہُ أَکَلَہٗ، وَإِلَّا تَرَکَہٗ۔صحیح [4]

[2] صحیح ، الترمذي فی الشمائل: ۱۴۱ مسلم:۲۰۴۴ من حدیث مصعب بن سلیم بہ۔ [السنۃ:۲۸۴۲]

[3] ضعیف، أبوالشیخ ص۱۹۱ صححہ ابن حبان:۴۹۷ من حدیث إبراھیم الجوھري بہ، محمد ابن معاذ مجھول (التقریب:۶۳۰۷) وابنہ مجھول الحال۔

[4] متفق علیہ ، علي بن الجعد:۷۴۰ البخاري:۳۵۶۳ عن علي بن الجعد و مسلم:۲۰۶۴ من حدیث الأعمش بہ۔ [السنۃ:۲۸۴۳]

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت