فهرس الكتاب

الصفحة 305 من 560

تیسری)میں ہوتے تو جب تک (صحیح) سیدھے بیٹھ نہ جاتے تو کھڑے نہ ہوتے۔

(۵۴۷) عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کَانَ إِذَا جَلَسَ فِی الصَّلاَۃِ وَضَعَ یَدَہٗ عَلٰی رُکْبَتِہٖ، وَوَضَعَ اِصْبَعَہُ الَّتِيْ تَلِی الْإِبْہَامَ الْیُمْنٰی یَدْعُوْبِہَا، وَیَدَہُ الْیُسْرٰی عَلٰی رُکْبَتِہٖ بَاسِطَھَا عَلَیْہِ۔صحیح [1]

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں بیٹھتے تو اپنے (دونوں) ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھتے تھے اور اپنے دائیں انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی کو رکھتے اور اس کے ساتھ دعا کرتے اور اپنے بائیں ہاتھ کو اپنے (بائیں) گھٹنے پر کھول کر رکھتے۔

(۵۴۸) عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کَانَ إِذَا قَعَدَ فِی التَّشَھُّدِ وَضَعَ یَدَہُ الْیُسْرٰی عَلٰی رُکْبَتِہِ الْیُسْرٰی، وَوَضَعَ یَدَہُ الْیُمْنٰی عَلٰی رُکْبَتِہِ الْیُمْنٰی، وَعَقَدَ ثَلٰثَۃً وَّخَمْسِیْنَ ، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَۃِ۔صحیح [2]

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد کے لیے بیٹھتے تو دایاں ہاتھ اپنے دائیں گھٹنے اور بایاں ہاتھ اپنے بائیں گھٹنے پر رکھتے اور ترپن کا عدد بناتے اور شہادت والی انگلی سے اشارہ کرتے تھے۔

(۵۴۹) عَنِ ابْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم إِذَا قَعَدَ یَدْعُوْ وَضَعَ یَدَہُ الْیُمْنٰی عَلٰی فَخِذِہِ الْیُمْنٰی، وَیَدَہُ الْیُسْرٰی عَلٰی فَخِذِہِ الْیُسْرٰی، وَأَشَارَ بِاصْبَعِہِ السَّبَّابَۃِ، وَوَضَعَ إِبْہَامَہٗ عَلٰی اِصْبَعِہِ الْوُسْطٰی، وَیُلْقِمُ کَفَّہُ الْیُسْرٰی رُکْبَتَہٗ۔صحیح [3]

سیدنا عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب (تشہد میں) دعا کے لیے بیٹھتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران اور بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھتے اور شہادت والی انگلی سے اشارہ کرتے تھے۔اپنا انگوٹھا اپنی درمیانی انگلی پر رکھتے اور بائیں ہتھیلی سے اپنا (بایاں) گھٹنا پکڑ لیتے تھے۔

(۵۵۰) عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کَانَ یَدْعُوْ فِی الصَّلاَۃِ: (( اللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَفِتْنَۃِ الْمَمَاتِ، [4]

[2] صحیح مسلم، المساجد باب صفۃ الجلوس فی الصلٰوۃ:۵۸۰۔

[3] صحیح مسلم، أیضًا:۵۷۹۔

[4] صحیح البخاري، الأذان باب الدعاء قبل السلام:۸۳۲ ، مسلم:۵۸۹ من حدیث أبی الیمان بہ۔ [السنۃ:۶۹۱]

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت