فهرس الكتاب

الصفحة 356 من 560

(682) عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ رضی اللّٰہ عنہ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کَانَ یَصُوْمُ یَوْمَ الْإِثْنَیْنِ وَالْخَمِیْسِ، فَقُلْتُ لَہ،، فَقَالَ: (( ھُمَا یَوْمَانِ تُعْرَضُ فِیْھِمَا الْأَعْمَالُ عَلٰی رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ) [1]

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ہر) سوموار اور جمعرات کو روزہ رکھتے تھے۔میں نے آپ سے پوچھا تو آپؐ نے فرمایا کہ ان دونوں دنوں میں رب العالمین پر (مخلوق کے) اعمال پیش کئے جاتے ہیں۔

(683) عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ رضی اللّٰہ عنہ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قَالَ: (( تُعْرَضُ الْأَعْمَالُ یَوْمَ الْإِثْنَیْنِ وَالْخَمِیْسِ، فَأُحِبُّ أَنْ یُّعْرَضَ عَمَلِيْ وَأَنَا صَائِمٌ ) [2]

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سوموار اور جمعرات کو اعمال پیش ہوتے ہیں تو میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میرا عمل روزے کی حالت میں (اللہ کے دربار میں) پیش ہو۔

(684) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: (( مَا کَانَ النَّبِيُّ ا یَتَحَرّٰی صِیَامَ یَوْمٍ یَبْتَغِيْ فَضْلَہ، إِلاَّ صِیَامَ رَمَضَانَ، وَھٰذَا الْیَوْمَ یَوْمَ عَاشَوْرَاءَ ) [3]

سیدناابن عباس رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (خاص) فضیلت تلاش کرتے ہوئے رمضان اور عاشورا کے دن کے علاوہ دوسرے کسی روزے کا خاص اہتمام نہیں کرتے تھے۔

(685) عَنِ الْحَکَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ، قَالَ:انْتَھَیْتُ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ، وَھُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَ ہ، فِيْ زَمْزَمَ، فَقُلْتُ:أَخْبِرْنِيْ عَنْ یَوْمِ عَاشُوْرَائَ، أَيُّ یَوْمٍ أَصُوْمُ؟ قَالَ:إِذَا رَأَیْتَ ھِلاَلَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ، ثُمَّ أَصْبِحْ مِنَ التَّاسِعِ صَائِمًا، قُلْتُ:أَھٰکَذَا کَانَ یَصُوْمُہ، مُحَمَّدٌ ا ؟ قَالَ:نَعَمْ۔صحیح [4]

حکم بن الاعرج (تابعی رحمہ اللہ) فرماتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچا۔آپ زمزم کے قریب اپنی چادر پر تشریف فرما تھے، میں نے کہا کہآپ مجھے عاشورا کے روزے کے بارے میں بتائیں میں کس

[2] إسنادہ صحیح، الترمذي: 747 وقال:''حسن غریب''وصححہ ابن خزیمۃ وغیرہ۔ [السنۃ:1799]

[3] متفق علیہ، مسلم: 1132 من حدیث ابن جریج ، البخاري: 2006 من حدیث عبیداللّٰه بن أبيیزید بہ۔ [السنۃ:1781]

[4] صحیح، الترمذي:754، مسلم:1133 من حدیث وکیع بہ۔ [السنۃ:1786]

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت