فهرس الكتاب

الصفحة 408 من 560

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس زعفران سے رنگا ہوا ایک زرد لحاف تھاجس کے ساتھ آپ اپنی بیویوں کے پاس جایا کرتے تھے۔اس کی سند میں (ایک راوی) سلام بن ابی خبزہ ضعیف ہے۔

(۸۳۹) عَنْ أَنَسٍ رضی اللّٰہ عنہ قَالَ:کَانَتْ لِرَسُوْلِ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مِلْحَفَۃٌ مُؤَرَّسَۃٌ تَدُوْرُ بَیْنَ نِسَائِہٖ، فَرُبَمَا نُضِحَتْ بِالْمَائِ لِتَکُوْنَ أَزْکٰی لِرِیْحِھَا۔ [1]

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس زعفران سے رنگا ہوا ایک زرد لحاف تھا جس کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے پاس جایا کرتے تھے۔بعض اوقات اس پر پانی چھڑک دیا جاتا تھا تاکہ اس کی خوشبو بہتر ہوجائے۔ (اس کا راوی بھی سلام بن ابی خبزہ ہے: ضعیف ہے)

(۸۴۰) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:تَضَیَّفْتُ مَیْمُوْنَۃَ وَھِيَ خَالَتِيْ، وَھِيَ حِیْنَئِذٍ لاَ تُصَلِّيْ:فَجَائَ تْ بِکِسَائٍ، ثُمَّ طَرَحَتْہُ وَفَرَشَتْہُ لِلنَّبِيِّا ، ثُمَّ جَائَ تْ بِنُمْرُقَۃٍ فَطَرَحَتْھَا عِنْدَ رَأْسِ الْفِرَاشِ، ثُمَّ جَائَ تْ بِکِسَائٍ أَحْمَرَ فَطَرَحَتْہُ عِنْدَ رَأْسِ الْفِرَاشِ، ثُمَّ اضْطَجَعَتْ وَمَدَّتِ الْکِسَائَ عَلَیْھَا وَبَسَطَتْ لِيْ بِسَاطًا إِلٰی جَنْبِھَا، وَتَوَسَّدْتُّ مَعَھَا عَلٰی وِسَادَتِھَا ثُمَّ جَائَ النَّبِيُّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وَ قَدْ صَلَّی الْعِشَائَ الْآخِرَۃَ، فَانْتَھٰی إِلَی الْفِرَاشِ فَأَخَذَ خِرْقَۃً عِنْدَ رَأْسِ الْفِرَاشِ فَاتَّزَرَبِہَا، وَخَلَعَ ثَوْبَیْہِ فَعَلَّقَھُمَا، ثُمَّ دَخَلَ مَعَھَا فِيْ لِحَافِھَا، حَتّٰی إِذَا کَانَ فِيْ آخِرِ اللَّیْلِ، قَامَ إِلٰی سِقَائٍ مُعَلَّقٍ فَحَرَّکَہٗ، ثُمَّ تَوَضَّأَ مِنْہُ، فَھَمَمْتُ أَنْ أَقُوْمَ فَأَصُبَّ عَلَیْہِ ، ثُمَّ کَرِھْتُ أَنْ یَرَانِيْ کُنْتُ مُسْتَیْقِظًا، فَجَائَ إِلَی الْفِرَاشِ فَأَخَذَ ثَوْبَیْہِ وَخَلَعَ الْخِرْقَۃَ، ثُمَّ قَامَ إِلَی الْمَسْجِدِ، فَقَامَ یُصَلِّيْ، فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ، ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ یَّسَارِہٖ، فَنَاوَلَنِيْ بِیَدِہٖ مِنْ وَّرَائِہٖ فَأَقَامَنِيْ عَنْ یَّمِیْنِہٖ، فَصَلّٰی وَصَلَّیْتُ مَعَہٗ ثَلاَثَ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً، ثُمَّ جَلَسَ فَجَلَسْتُ إِلٰی جَنْبِہٖ؛ فَأَصْغٰی بِخَدِّہٖ إِلٰی خَدِّيْ حَتّٰی سَمِعْتُ نَفَسَ النَّائِمِ، ثُمَّ جَائَ بِلاَلٌ فَقَالَ:الصَّلاَۃَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَامَ إِلَی الْمَسْجِدِ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَأَخَذَ فِی الرَّکْعَتَیْنِ، وَأَخَذَ بِلاَلٌ فِی الْإِقَامَۃِ۔ [2]

[2] ضعیف، أبوالشیخ ص۱۵۹، ۱۶۰، أحمد۱/۲۸۴ فیما وجدہ ابنہ في کتابہ،/محمد بن ثابت العبدي صدوق لین الحدیث (ٰالتقریب: ۵۷۷۱) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت