سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم برے نام کو بدلا کر اچھا نام رکھ دیتے تھے۔
(۱۱۳۷) ع [1] عمر بن راشد ضعیف
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میرے پاس کوئی ایلچی بھیجو تو اچھے نام اور خوبصورت چہرے والا بھیجو۔
(۱۱۳۸) عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ رضی اللّٰہ عنہ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: (( مَنْ یُّبَلِّغُنَا لِقْحَتَنَا ھٰذِہٖ؟ ) )فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ لَہٗ (( مَا اسْمُکَ؟ ) )قَالَ:صَخْرٌ، قَالَ: (( اجْلِسْ ) )ثُمَّ قَالَ: (( مَنْ یُّبَلِّغُنَا لِقْحَتَنَاھٰذِہٖ؟ ) )فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: (( مَا اسْمُکَ؟ ) )قَالَ:یَعِیْشُ، قَالَ: (( احْلُبْ ) )۔ [2]
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہماری اس اونٹنی (کا دودھ) کون دوہے گا؟ تو ایک آدمی اٹھ کھڑا ہوا۔آپ نے پوچھا:تیرا نام کیا ہے؟ تو اس آدمی نے کہا: صخر (پتھر) آپ نے فرمایا: بیٹھ جا، پھر آپ نے فرمایا: ہماری اس اونٹنی (کا دودھ) کون دوہے گا؟ تو ایک (دوسرا) آدمی اٹھ کھڑا ہوا ،آپ نے پوچھا تیرا کیا نام ہے؟ اس نے کہا: یعیش (زندہ رہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم (دودھ) دوہو۔
(۱۱۳۹) عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: ذُکِرَ عِنْدَ النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم رَجُلٌ یُقَالُ لَہٗ:شِہَابٌ، فَقَالَ ا: (( أَنْتَ ھِشَامٌ ) )۔ [3]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک آدمی کا ذکر کیا گیا جسے شہاب کہتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ہشام ہے۔
(۱۱۴۰) عَنْ أَنَسٍ رضی اللّٰہ عنہ:أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بَعَثَ عَلِیًّا إِلٰی قَوْمٍ یُقَاتِلُھُمْ، ثُمَّ أَرْسَلَ خَلْفَہٗ رَجُلًا، فَقَالَ: (( لاَ تُنَادِہٖ مِنْ وَّرَائِہٖ وَقُلْ لَہٗ: لَا تُقَاتِلْھُمْ حَتّٰی تَدْعُوَھُمْ ) )۔ [4]
[2] حسن، أبوالشیخ ص۲۵۱ الطبراني فی الکبیر (۱۷/۲۹۲ ح ۸۰۵) من حدیث موسٰی بن علي بہ وللحدیث شواھد کثیرۃ۔
[3] حسن، أبوالشیخ ص۲۵۳، أحمد ۶/۷۵ من حدیث عمران القطان بہ وصححہ الحاکم ۴/۲۷۶، ۲۷۷ ووافقہ الذھبي وللحدیث شاھد عندالحاکم۔
[4] ضعیف، أبوالشیخ ص۲۵۳ سفیان بن عیینۃ عنعن وباقي السند حسن۔