سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو اپنا منہ آپ کی آنکھوں کے درمیان رکھا اور اپنے دونوں ہاتھ آپ کی کلائیوں پر رکھے (چوما) اور کہا: ہائے اللہ کے نبی، ہائے اللہ کے برگزیدہ، ہائے اللہ کے خلیل۔
(۱۲۰۷) عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ:تُوُفِّيَ رَسُوْلُ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یَوْمَ اْلإِثْنَیْنِ۔ [1]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوموار (پیر) کے دن فوت ہوئے۔
(۱۲۰۸) عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ:قُبِضَ رَسُوْلُ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یَوْمَ اْلإِثْنَیْنِ، فَمَکَثَ ذٰلِکَ الْیَوْمَ وَلَیْلَۃَ الثُّـلَاثَائِ وَدُفِنَ مِنَ اللَّیْلِ۔وَقَالَ سُفْیَانُ، وَقَالَ غَیْرُہٗ: سَمِعَ صَوْتَ الْمَسَاحِيْ مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ۔ [2]
سیدنا محمد (بن علی الباقر، تابعی) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوموار کے دن فوت ہوئے تو اس دن اور منگل کی رات تک (اسی حالت میں) رہے اور آپ کو رات کے وقت دفن کیا گیا۔سفیان (بن عیینہ) یا دوسرے راوی جعفر بن محمد الصادق سے وہ اپنے والد محمد الباقر سے بیان کرتے ہیں کہ رات کے آخری حصے میں قبر کھودنے کی آوازیں سنی گئیں۔
(۱۲۰۹) عَنْ سَالِمِ بْنِ عُبَیْدِاللّٰہِ لَہٗ صُحْبَۃٌ رضی اللّٰہ عنہ قَالَ:إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قُبِضَ، فَقَالَ عُمَرُ: وَاللّٰہِ لَا أَسْمَعُ أَحَدًا یَذْکُرُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قُبِضَ، إِلاَّ ضَرَبْتُہٗ بِسَیْفِيْ ھٰذَا، قَالَ:وَکَانَ النَّاسُ أُمِّیِّیْنَ لَمْ یَکُنْ فِیْھِمْ نَبِيٌّ قَبْلَہٗ، فَأَمْسَکَ النَّاسُ، قَالُوْا: یَاسَالِمُ!انْطَلِقْ إِلٰی صَاحِبِ رَسُوْلِ اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم فَادْعُہٗ، فَأَتَیْتُ اَبَابَکْرٍ وَھُوَ فِی الْمَسْجِدِ، فَأَتَیْتُہٗ أَبْکِيْ دَھِشًا، فَلَمَّا رَآنِيْ قَالَ لِيْ:أَقُبِضَ رَسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ؟ قُلْتُ، إِنَّ عُمَرَ یَقُوْلُ:لَا أَسْمَعُ أَحَدًا یَقُوْلُ إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قُبِضَ إِلاَّ ضَرَبْتُہٗ بِسَیْفِيْ، فَقَالَ لِيْ:انْطَلِقْ ، فَانْطَلَقْتُ مَعَہٗ، فَجَائَ النَّاسَ قَدْ زَحَفُوْا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، فَقَالَ:یَاأَیُّہَا النَّاسُ أَفْرِجُوْا لِيْ، فَأَفْرَجُوْا لَہٗ، فَجَائَ حَتّٰی أَکَبَّ عَلَیْہِ وَمَسَّہٗ، فَقَالَ { إِنَّکَ مَیِّتٌ وَّإِنَّہُمْ مَّیِّتُوْنَ } ثُمَّ قَالُوْا: یَا صَاحِبَ رَسُوْلِ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، أَقُبِضَ رَسُوْلُ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ؟ قَالَ:نَعَمْ، فَعَلِمُوْا أَنَّ قَدْ صَدَقَ، قَالُوْا: یَا صَاحِبَ رَسُوْلِ اللّٰہِ!أَنُصَلِّيْ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ وسلم ؟قَالَ:نَعَمْ، قَالُوْا! وَکَیْفَ؟ قَالَ:یَدْخُلُ قَوْمٌ فَیُصَلُّوْنَ [3]
[2] ضعیف مرسل، الترمذي فی الشمائل:۳۹۵۔
[3] صحیح، الترمذي فی الشمائل:۳۹۷ ابن ماجہ:۱۲۳۴ عن نصر بن علي بہ وصححہ ابن خزیمۃ:۱۵۴۱، ۱۶۲۴ والبوصیري فی الزوائد۔