فهرس الكتاب

الصفحة 544 من 560

تعزیے والے آئے تو انہوں نے ایک کہنے والے کو سنا: ہر مصیبت کا تعزیہ اللہ ہی کے سامنے ہے اور ہر فوت ہونے والے کا ورثہ ہے اور جو فوت ہوگیا اسے پانا ہے۔پس اللہ پر (ہی) بھروسہ کرو۔اسی سے امید رکھو، بے شک مصیبت زدہ شخص وہ ہے جس کو ثواب سے محروم کردیا گیا ہو۔

(۱۲۲۲) عَنْ أَبِيْ مُوْسٰی رضی اللّٰہ عنہ عَنِ النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قَالَ: (( إِنَّ اللّٰہَ إِذَا أَرَادَ رَحْمَۃَ أُمَّۃٍ مِنْ عِبَادِہٖ قُبِضَ نَبِیُّھَا قَبْلَھَا، فَجَعَلَہٗ لَھَا فَرَطًا وَسَلَفًا بَیْنَ یَدَیْھَا، وَإِذَا أَرَادَ ھَلَکَۃَ أُمَّۃٍ عَذَّبَھَا وَنَبِیُّھَا حَيٌّ، فَأَھْلَکَھَا وَھُوَ یَنْظُرُ، فَقَرَّ عَیْنُہٗ بِہَلَکَتِھَا، حِیْنَ کَذَّبُوْہُ وَعَصَوْا أَمْرَہٗ ) )۔صحیح [1]

سیدنا ابوموسیٰ (اشعری رضی اللّٰہ عنہ) سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اللہ اپنے بندوں پر رحمت کا ارادہ کرتا ہے تو ان کے نبی کو پہلے فوت کردیتا ہے اور اسے ان کا آگے کا بھیجا ہوا (توشہ) قرار دیتا ہے اور اگر کسی امت کی ہلاکت کا ارادہ کرتا ہے تو نبی کی زندگی میں ہی اس امت کو عذاب دیتا ہے۔وہ دیکھ رہا ہوتا ہے۔اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجاتی ہیں، کیونکہ ان لوگوں نے اسے جھوٹا سمجھا تھا اور اس کی نافرمانی کی تھی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت