فهرس الكتاب

الصفحة 34 من 101

کثرت سے اللہ تعالیٰ سے ان الفاظ کے ساتھ دعا کرتے تھے۔ واللہ تعالیٰ أعلم۔

۲: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے [اَلْہُدَی] مطلقًا [بلا قید] کی فرمائش کی۔ اس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا و آخرت اور اخلاقِ عالیہ کی تمام باتوں میں اللہ تعالیٰ کی راہ نمائی کے شاملِ حال ہونے کی دعا کی۔ [1]

ب: حضراتِ ائمہ احمد، ترمذی اور ابویعلی نے شہر بن حوشب سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے کہا: ''میں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: ''اے مومنوں کی ماں! آپ کے ہاں قیام کے دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ کون سی دعا کیا کرتے تھے؟''

انہوں نے جواب دیا:

''کَانَ أَکْثَرُ دُعَائِہِ:

''یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ! ثَبِّتْ قَلْبِيْ عَلٰی دِیْنِکَ۔''

''آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ یہ دعا کرتے:

[''اے دلوں کے پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین

پر ثابت فرما دیجئے۔'']

انہوں نے بیان کیا: ''میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا: ''آپ یہ دعا [''یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ! ثَبِّتْ قَلْبِيْ عَلٰی دِیْنِکَ۔''] کس قدر زیادہ کرتے ہیں!''

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''یَا أُمَّ سَلَمَۃَ! إِنَّہُ لَیْسَ مِنْ آدَمِيٍّ إِلَّا وَقَلْبُہُ بَیْنَ أُصْبَعَیْنِ مِنْ أَصَابِعِ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت