فهرس الكتاب

الصفحة 51 من 101

کی روشنی میں طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے۔

(و)

{قَالَ یَاأَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِی إِِنْ شَآئَ اللّٰہُ مِنْ الصَّابِرِیْنَ}

[انہوں نے کہا: ''اے میرے ابا (جان) ! آپ کو جو حکم دیا گیا ہے، وہ کردیجئے، اللہ تعالیٰ نے چاہا، تو آپ مجھے ضرور صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے''] ۔

تفسیر:

ا: [أَبَتِ] اصل میں [أبي] [میرے باپ] ہے، [یا] کو [تاء] سے بدل دیا گیا ہے۔ [1]

ب: حضرت اسماعیل علیہ السلام کے جواب: {اِفْعَلْ مَا تُؤْمَرُ} [آپ کو جو حکم دیا گیا ہے، وہ کردیجئے] ،

سے مراد یہ ہے، کہ میں آپ کو ذبح کرنے کا حق دیتا ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسے کرنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے ایک ہی جملے میں ذبح کرنے کی اجازت اور اس کا سبب بیان کردیا ہے۔ [2]

ج: حضرت اسماعیل علیہ السلام کے قول: {سَتَجِدُنِی إِِنْ شَآئَ اللّٰہُ مِنْ الصَّابِرِیْنَ}

[اللہ تعالیٰ نے چاہا، تو آپ مجھے ضرور صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے]

سے مراد یہ ہے، کہ آپ مجھے صبر میں بلند مقام پانے والے مشہور لوگوں میں سے پائیں گے۔

[2] ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۲۳/۱۵۱۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت