تو آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں۔ پھر زمین میں اس کے لیے قبولیت (اور پذیرائی) رکھ دی جاتی ہے۔'']
امام نووی نے اس پر درجِ ذیل عنوان تحریر کیا ہے:
[بَابٌ إِذَا اَحَبَّ اللّٰہُ عَبْدًا حَبَّبَہُ إِلٰی عِبَادِہٖ] [1]
[ (اس بارے میں) باب، کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتے ہیں، تو اسے اپنے بندوں کے لیے محبوب بنا دیتے ہیں] ۔
(م)
{إِِنَّہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ}
[بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا]
تفسیر:
ا: {عِبَادِنَا} :
[ہمارے بندوں]
علامہ قرطبی لکھتے ہیں:
''أَيْ مِنَ الَّذِیْنَ أَعْطُوْا الْعَبُوْدِیَّۃَ حَقَّہَا حَتّٰی اسْتَحَقُّوْا الْإِضَافَۃَ إِلَی اللّٰہَ تَعَالٰی۔'' [2]
[''یعنی وہ عبودیت کا حق ادا کرکے اللہ تعالیٰ کی طرف انتساب کا شرف پانے والوں سے ہوگئے''] ۔
ب: {الْمُؤْمِنِیْنَ} :
قاضی ابوسعود اس کی تفسیر میں رقم طراز ہیں:
[2] تفسیر القرطبي ۱۵/۱۱۲۔