فهرس الكتاب

الصفحة 75 من 101

رحمت اور سلامتی کی دعائیں کرتے رہیں گے۔ [1]

ج: {کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ} :

[ہم اسی طرح احسان کرنے والوں کو بدلہ دیتے ہیں]

تفسیر:

{کَذٰلِکَ} :

اس سے آئندہ آنے والے لوگوں میں ذکرِ خیر باقی رکھنے کی طرف اشارہ ہے۔ یہ گذشتہ آیت کریمہ [إِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ] کے مشار إلیہ [2] سے الگ ایک نئی بات ہے، کیونکہ وہاں ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام سے سختی اور شدّت دور کرنے کی طرف اشارہ تھا۔ [3]

{الْمُحْسِنِیْنَ} :

اس سے مراد حکمِ الٰہی کے لیے مطیع اور فرماں بردار لوگ ہیں۔ [4]

درس ۲۳: اللہ تعالیٰ کے فرماں برداروں کے لیے قبولیتِ عامہ:

آئندہ نسلوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذکرِ خیر کے باقی رہنے کی علّت اور سبب حکمِ الٰہی کے لیے ان کی طاعت گزاری ہے۔ [5]

اس طرح قبولیتِ عامہ پانا صرف انہی کے ساتھ خاص نہیں تھا، بلکہ سنّتِ الٰہیہ

[2] (مشار إلیہ) : جس کی طرف اشارہ کیا جائے۔

[3] ملاحظہ ہو: تفسیر أبي السعود ۷/۲۰۲۔

[4] ملاحظہ ہو: فتح القدیر ۴/۵۷۷ تفسیر أبي السعود ۷/۲۰۲؛ وفتح القدیر ۴/۵۷۰۔

[5] ملاحظہ ہو:

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت