نام بعد میں اسحاق رکھا گیا۔ [1]
د: {نَبِیًّا مِّنْ الصَّالِحِیْنَ} :
مراد یہ ہے، کہ جس بچے کی بشارت دی جارہی ہے، وہ بعد میں نبی اور نیک لوگوں میں سے ہوگا۔ یہ مراد نہیں، کہ وہ بوقتِ بشارت نبی تھے۔ [2]
ہ: {وَبَارَکْنَا عَلَیْہِ وَعَلٰٓی إِِسْحَاقَ} :
[اور ہم نے اس پر اور اسحاق علیہما السلام پر برکت نازل فرمائی] ۔
: [اس پر] کی تفسیر میں دو اقوال ہیں:
۱: اس سے مراد ابراہیم علیہ السلام ہیں، کہ ہم نے ان پر برکت نازل فرمائی۔ [3]
۲: اس سے مراد اسماعیل علیہ السلام ہیں، کہ ہم نے ان پر برکت نازل فرمائی۔ [4]
: (نزول برکت) :
اس کے متعلق مفسرین کرام کے بیان کردہ معانی میں سے چار درجِ ذیل ہیں:
۱: ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں برکت نازل فرمائی اور انبیاء علیہم السلام کی اکثریت اسحاق علیہ السلام
[2] ملاحظہ ہو: تفسیر البیضاوي ۲/۳۰۰؛ وتفسیر أبي السعود ۷/۲۰۲؛ وفتح القدیر ۴/۵۷۷؛ وتفسیر التحریر والتنویر ۲۳ / ۱۶۱۔
[3] ملاحظہ ہو: تفسیر البغوي ۶/۳۰؛ وتفسیر القرطبي ۱۵/۱۱۳؛ وتفسیر الخازن ۶/۳۰۔
[4] ملاحظہ ہو: تفسیر القرطبي ۱۵/۱۱۳۔