فهرس الكتاب

الصفحة 82 من 101

[احسان کرنے والے لوگوں کے لیے اس دنیا میں [حَسَنَۃً] ہے، اور بے شک آخرت کا گھر تو کہیں بہتر ہے اور تقویٰ اختیار کرنے والوں کا گھر بہت ہی اچھا ہے]۔

شیخ سعدی دنیا میں ملنے والی [حَسَنَۃٌ] کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

''أَيْ رِزْقٌ وَاسِعٌ، وَعِیْشَۃٌ ھَنِیْئَۃٌ، وَطَمَانِیْنَۃُ قَلْبٍ، وَأَمْنٌ، وَسُرُوْرٌ۔'' [1]

[''یعنی کشادہ روزی، خوش گوار زندگی، اطمینانِ قلب، امن اور مسرت۔'']

ب: ارشادِ باری تعالیٰ:

{مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ أُنْثٰی وَ ہُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّہٗ حَیٰوۃً طَیِّبَۃً وَّ لَنَجْزِیَنَّہُمْ أَجْرَہُمْ بِأَحْسَنِ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ} [2]

[جو بھی نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو، تو ہم اسے ضرور [حَیٰـوۃً طَیِّبَۃً] بخشیں گے اور ہم انہیں ضرور ان کے اعمال سے زیادہ اچھا بدلہ دیں گے]۔

حافظ ابن کثیر اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

ھٰذَا وَعْدٌ مِّنَ اللّٰہِ تَعَالیٰ لِمَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَکَرٍ أَوْ أُنْثٰی، وَقَلْبُہُ مُؤْمِنٌ بِاللّٰہِ وََرَسُوْلِہِ بِأَنْ یُّحْیِیَہُ حَیَاۃً طَیِّبَۃً فِيْ الدُّنْیَا، وَأَنْ یَجْزِیَہُ بِأَحْسَنَ مَا عَمِلَہُ فِيْ الدَّارِ الْآخِرَۃِ۔ [3]

[2] سورۃ النحل / الآیۃ ۹۷۔

[3] تفسیر ابن کثیر ۲/۶۴۵ باختصار۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت