فهرس الكتاب

الصفحة 177 من 431

واقعی تم اس کی عبادت کرتے ہو۔'' [1]

مزید برآں ایسے لوگ جو خوداپنی عزت و حرمت کو پامال کر کے دوسرے افراد کا دم چھلا بن گئے، قرآن کریم نے ایسے لوگوں کو بھی مردود ٹھہرایا۔ان لوگوں کے قول کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان فرمایا ہے:

''اور وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! بے شک ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی، تو انھوں نے ہمیں سیدھی راہ سے بھٹکا دیا۔'' [2]

ایک گروہ نے جب اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں دوسرے انسانوں کی اطاعت کرکے ان کے تقدس اور احترام میں مبالغہ کیا تواللہ نے ان کی تردید کی اور فرمایا:

''انھوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے علماء اور درویشوں کو (اپنا) رب بنا لیا اور مسیح ابن مریم کو بھی، حالانکہ انھیں یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ صرف ایک معبود (اللہ) کی عبادت کریں۔'' [3]

بلکہ قرآن کریم نے اس شخص کی بھی تردید کی ہے جس نے بعض انبیاء کی طرف یہ جھوٹی بات منسوب کی کہ انھوں نے لوگوں کو اپنی ذاتی عبادت کی دعوت دی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

''کسی شخص کو لائق نہیں کہ اللہ اسے کتاب و حکمت اور نبوت عطا کرے، پھر وہ لوگوں

[2] الأحزاب 67:33

[3] التوبۃ 31:9

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت