فهرس الكتاب

الصفحة 404 من 431

قرآن کریم کی حفاظت کا اہتمام کرنا

اس کتاب عظیم کا بنیادی حق اس کی حفاظت کرنا، اس پر توجہ دینا، اس کی تعظیم اور اس کا اہتمام کرنا ہے، اسی لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے اس کی بڑی تاکید آئی ہے۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

(( سَأَلْتُ عَبْدَ اللّٰهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى آوْصَى النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا فَقُلْتُ كَيْفَ كُتِبَ عَلَى النَّاسِ الْوَصِيَّةُ أُمِرُوا بِهَا وَلَمْ يُوصِ قَالَ أَوْصَى بِكِتَاب اللّٰه ) )

''میں نے حضرت عبداللہ بن ابو اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی وصیت کی ہے؟ انھوں نے جواب دیا: نہیں! میں نے کہا:''لوگوں پر وصیت فرض کی گئی ہے، انھیں اس کا حکم دیا گیا ہے اور آپ نے وصیت نہیں فرمائی''؟انھوں نے جواب دیا:''آپ نے کتاب اللہ کی وصیت فرمائی تھی۔'' [1]

حضرت عبداللہ بن ابو اوفیٰ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مال و دولت اور امارت و خلافت

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت