قرآن ایک یقینی، قطعی اور غیر مشتبہ کتاب ہے:
قرآن کی سب سے اہم اور اساسی خصوصیت اور امتیاز اس کا یقینی اور غیر مشتبہ ہونا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{ ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ}
'' یہ کامل کتاب ہے، اس میں کسی شک وشبہ کی (مطلق) کوئی بات نہیں۔'' [1]
دوسری جگہ فرمایا:
{ وَتَفْصِيلَ الْكِتَابِ لَا رَيْبَ فِيهِ مِن رَّبِّ الْعَالَمِينَ }
''یہ (قوانین واحکام) کی تفصیل وبیان ہے، اس میں کوئی شک وشبہ نہیں (کیونکہ) جہانوں کے رب کی طرف سے ہے۔'' [2]
نیز فرمایا:
{ وَإِنَّهُ لَكِتَابٌ عَزِيزٌ 41} لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ ۖ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ
''یہ نہایت وقیع کتاب ہے۔ اس میں غیر واقعی بات نہ اس کے آگے سے آسکتی ہے اور نہ اس کے پیچھے کی طرف سے، حکیم ، ستودہ صفات کی طرف سے اتاری گئی ہے۔'' [3]
ایک اور جگہ فرمایا:
{ كِتَابٌ أُحْكِمَتْ آيَاتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِن لَّدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ }
'' (یہ) ایک عظیم کتاب ہے جس کی آیات مضبوط کی گئی ہیں، پھر ان کی تفصیل حکیم باخبر ذات کی طرف سے کی گئی ہے۔'' [4]
[2] یونس20:9
[3] حٰمٓ السجدۃ42,41:41
[4] ھود1:11