فهرس الكتاب

الصفحة 209 من 431

اس طرز تخاطب سے مسلمانوں کے دل میں ایمان کی بجلیاں کوندنے لگتی ہیں،چنانچہ اس اندازِ بیان سے متاثر ہونے والا شخص بہت زیادہ مستجاب الدعوات ہو جاتا ہے اور دین سے وابستگی اور نظم وضبط کے بہت قریب ہو جاتا ہے۔ یہ چیزان وضعی قوانین کے یکسر برعکس ہے جو در حقیقت ایمان کے ستونوں پر قائم ہوتے ہیں نہ اپنے اسلوب کار میں انسان کے محسوسات کا کوئی پاس یا لحاظ رکھتے ہیں۔ وہ محض بے لچک، بے مروت اور خشک اوامر و نواہی ہوتے ہیں جو صرف ظاہر ی علاج اور نری دنیا کی بات کرتے ہیں ،مزید برآں ان کا علاج کمزور ، ان کی بات ناقص اور ان کا اسلوب کار گھٹیا ہوتاہے۔ [1]

قرآنی قوانین میں دنیا اور آخرت کے تقاضوں کے مابین توازن رکھنے پر جو زور دیا گیا ہے اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ قانون شریعت بندوں کی بہتری اور فائدے کے لیے بنایا گیا ہے اور اسے احکم الحاکمین (سب حکمت والوں سے بڑھ کر حکمت والے) نے بنایا ہے۔ وہ اپنی مخلوق کے مفادات اور ان کے احوال سب سے زیادہ جانتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

''بھلا وہ نہ جانے گا جس نے (سب کو) پیدا کیا اور وہی باریک بین باخبر ہے۔'' [2]

جہاں تک وضعی قوانین کا تعلق ہے ،ان کا مقصود فقط دُنیا کی فلاح و بہبود ہے، مزید برآں وہ فرد اور جماعت کے مفادات کے مابین امتیاز سے بھی یکسر عاجز ہیں۔ [3]

اس تمام بحث سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ قرآنی شریعت کی ہمہ گیری اور جامعیت درج ذیل امور کا تقاضا کرتی ہے:

[2] الملک 14:67

[3] المقاصد العامۃ للشریعۃ الإسلامیۃ، الدکتور یوسف حامدعالم، ص: 47-46

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت