دل پوری طرح مطمئن ہونا چاہیے۔ اس کا فرض ہے کہ قرآن احکام اور اس کی نواہی کا اعلان کرے اور کسی ملامت گر اور رکاوٹ ڈالنے والے سے ہرگز نہ ڈرے۔ [1]
(3) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
''اور قرآن کو ہم نے تھوڑا تھوڑا اتارا تاکہ آپ اسے لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر سنائیں، اور ہم نے اسے بتدریج ہی نازل کیا ہے۔'' [2]
پس اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو مختلف حالات و حوادث اور واقعات پیش آنے پر تقریبًا 23برس کی مدت میں وقتًا فوقتًا تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا تاکہ آپ اسے وقفے وقفے سے لوگوں تک پہنچائیں اور ان کے روبرو اس کی تلاوت فرمائیں تاکہ لوگ اس کی آیات میں غور و فکر کریں اور اس پر ایمان لائیں۔ [3]
یہ بات ہر مبلغ کے لیے شرط لازم کی حیثیت رکھتی ہے کہ وہ دل و جان سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کرے اور لوگوں کو قرآن کریم کی دعوت توقف کے ساتھ وقتًا فوقتًا دے اور اس کی تلاوت دھیرے دھیرے کرے تاکہ قرآن کریم میں جو حکمتیں اور نفع بخش علوم ہیں وہ نمایاں ہو جائیں اور لوگ ان سے مستفید ہو سکیں۔
(4) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
''کہہ دیجیے: بس میں تو تمھیں وحی کے ذریعے سے ڈراتا ہوں، اور بہرے پکار کو نہیں
[2] بنی إسرآء یل 106:17
[3] تفسیر ابن کثیر: 94/3