اے سونے اور چاندی کی چکا چوند کے متوالو اور مغرب کی مادی بھڑکیلی تہذیب پر ریجھنے والو! کیا ابھی تک وہ وقت نہیں آیا کہ تمھیں نگاہ حقیقت بین میسر آ جائے اور تم اس سچائی کا سراغ پا جاؤ کہ رب ذوالجلال نے ہمیں قرآن کریم کی جو عظیم دولت عطا کی ہے اور جس فضل و رحمت کا ہم پر فیضان کیا ہے، ہماری ساری راحت و مسرت اس پر موقوف ہے اور ہمیں اسی متاع بے بہا پر خوشی محسوس کرنی چاہیے۔ [1]