فهرس الكتاب

الصفحة 419 من 431

بذریعہ قرآن کریم کلام کرتا ہے، بلاشبہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے جاری ہونے والا، اللہ کی طرف سے تیرے لیے خطاب ہے۔'' [1]

دور حاضر کے مسلمانوں کی اپنے اسلام، اپنے قرآن اور اپنے رب کے ساتھ تعلق کی جو حالت ہے اسے دیکھ کر نہایت افسوس ہوتا ہے۔ یقینا ان میں سے کوئی بھی یہ نہیں سمجھتا کہ قرآن کریم کے احکام اور نصیحت بنیادی طور پر اسی کے لیے ہیں۔ اس کے برعکس وہ یہ خیال کرتا ہے کہ یہ تو فلاں شخص کے لیے خطاب ہے۔ وہ اپنے آپ کو مسٔولیت اور جواب دہی سے بعید قرار دیتا ہے اور اپنے واجبات دوسروں کے کھاتے میں ڈال دیتا ہے، اس لیے وہ قرآن کریم سے متاثر ہوتا ہے نہ اس امر کی کوشش کرتا ہے کہ وہ اسلام کی تعلیمات پر عمل شروع کر دے۔ [2]

(7) جس آیت کی تلاوت کی جائے اس کا اثر قبول کیا جائے: آدمی کو چاہیے کہ وہ وعید اور جہنم کے تذکرے کے وقت خوف سے لرز جائے، جنت کے وعدے اور اس کے تذکرے سے مسرت محسوس کرے، اللہ تعالیٰ، اس کے اسمائے حسنیٰ اور صفات عالیہ کے تذکرے پر انکسار سے اپنا سر جھکا دے اور کفار کی باتوں کی قباحت اور اپنے دعووں میں ان کی بے ادبیوں پر شر مسار ہوتے ہوئے اپنی آواز پست رکھے اور اپنے باطن میں انکسار اور عاجزی پیدا کرے۔

(8) مانع فہم امور سے اجتناب کیا جائے: جو باتیں قاری کی سمجھ میں نہ آنے والی ہوں وہ ان سے احتراز کرے اور اپنی ساری توجہ حروف کی تجوید پر مرکوز رکھے۔

مانع فہم امور سے علیحدہ ہونے کی سب سے بڑی تدبیر یہ ہے کہ گناہوں سے فورًا توبہ کی

[2] مفاتیح للتعامل مع کتاب اللّٰہ، ص: 133-132

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت