فهرس الكتاب

الصفحة 100 من 212

بَعْدَ الصَّلَوٰتِ الْخَمْسِ، وَ ذٰلِکَ کُلُّہٗ مِنَ الْبِدَعِ، وَ مَوْضِعُ الْمُصَافَحَۃِ فِي الشَّرْعِ اِنَّمَا ہُوَ عِنْدَ لِقَائِ الْمُسْلِمِ لِاَخِیْہِ لاَ فِي اَدْبَارِ الصَّلَوَاتِ، فَحَیْثُ وَضَعَہَا الشَّرْعُ یَضَعُہَا، وَ یُنْہٰی عَنْہَا وَ یُزْجَرُ فَاعِلُہَا لِمَا أَتٰی مِنْ خِلاَفِ السُّنَّۃِ، وَ ہٰذَا التَّصْرِیْحُ مِنْہُمْ یُشْعِرُ بِالْاِجْمَاعِ فَلاَ یَجُوْزُ الْمُخَالَفَۃُ، بَلْ یَلْزَمُ الْاِتْبَاعُ لِقَوْلِہٖ تَعَالٰی: {وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْھُدٰی وَ یَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤمِنِیْنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَ نُصْلِہٖ جَھَنَّمَ وَ سَآئَ تْ مَصِیْرًا} وَ لَوْ لَمْ یُصَرِّحِ الْفُقَہَائُ بِکَرَاہَتِہَا بَلْ کَانَتْ مُبَاحَۃً فِيْ نَفْسِہَا لَحَکَمْنَا فِيْ ہٰذَا الزَّمَانِ بِکَرَاہَتِہَا اِذْ وَاظَبَ عَلَیْہَا النَّاسُ، وَاعْتَقَدُوْہَا سُنَّۃً لاَزِمَۃً بِحَیْثُ لاَ یُجِیْزُوْنَ تَرْکَہَا حَتّٰی وَصَلَ اِلَیْنَا مِنْ بَعْضِ مَنِ اشْتَہَرَ بِالْعِلْمِ اَنَّہٗ قَالَ: ہِيَ مِنْ شَعَائِرِ الْاِسْلاَمِ فَکَیْفَ یَتْرُکُہَا مَنْ کَانَ مِنْ اَہْلِ الْاِیْمَانِ؟ فَانْظُرُوْا یَا اَہْلَ الْاِنْصَافِ اِذَا کَانَ اعْتِقَادُ الْخَوَاصِّ ہٰکَذَا فَاعْتِقَادُ الْعَوَامِ مَاذَا یَکُوْنُ؟ وَ کُلُّ مُبَاحٍ اَدَّی اِلٰی ہٰذَا فَہُوَ مَکْرُوْہٌ'' اِنْتَہٰی

''اور ابن الحاج مالکی نے مدخل میں لکھا ہے: امام کو لازم ہے کہ وہ اس مصافحہ سے جو بعد نماز صبح کے اور بعد نماز جمعہ کے اور بعد نماز عصر کے نیا نکال کر شروع کیا ہے منع کر دے بلکہ بعض لوگ تو پنجگانہ نماز کے بعد کرنے لگے ہیں، یہ تمام بدعت ہے، اور شرع میں مقام مصافحہ کا صرف وقت ملاقات مسلم کا ہے بھائی مسلمان سے، نمازوں کے بعد نہیں ہے۔ پھر جس جگہ شرع نے مقرر کیاہے اسی جگہ قائم

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت