فهرس الكتاب

الصفحة 49 من 212

عورتوں کے لیے عید گاہ جانے کے آداب:

عورتوں کے عید گاہ جانے کے لیے بعض ضروری آداب بھی ہیں جن کی رعایت بھی از بس ضروری ہے، [1] مثلًا یہ کہ زرق برق لباس نہ پہنا ہو اور نہ ہی خوشبو کا استعمال کیا ہو، کیونکہ ان امور سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے؛ چنانچہ صحیح مسلم میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ حضرت زینب بنت عبداللہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد بیان کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( اِذَا شَھِدَتْ اِحْدَاکُنَّ الْمَسْجِدَ فَلاَ تَمَسَّ طِیْبًا ) ) [2]

''جب تم میں سے کوئی عورت مسجد میں جائے تو وہ خوشبو ہرگز نہ لگا کر جائے۔''

مساجد میں جانے کی طرح ہی عید گاہ میں جانے کا معاملہ بھی ہے۔

پیدل اور سوار ہوکر عید گاہ جانا:

عید گاہ کی طرف جانے کے لیے بہتر تو یہ ہے کہ پیدل جائیں کیونکہ بعض احادیث سے یہی سنت معلوم ہوتی ہے؛ چنانچہ سنن ترمذی، ابن ماجہ اور بیہقی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:

(( اِنَّ مِنْ السُّنَّۃِ اَنْ تَاْتِيَ الْعِیْدَ مَاشِیًا ) ) [3]

''سنت یہ ہے کہ تم عید کے لیے پید ل چل کر جاؤ۔''

نیز سنن ابن ماجہ میں حضرت سعد القرظ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:

(( اَنَّ النَّبِيَّ صلي اللّٰہ عليه وسلم کَانَ یَاْتِي الْعِیْدَ مَاشِیًا ) ) [4]

[2] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۴۴۳)

[3] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۵۳۰) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۱۲۵۶)

[4] سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۱۲۹۴)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت