فهرس الكتاب

الصفحة 169 من 212

مذکورہ احادیث میں وارد ہونے والے اوصاف و صفات کو ذرا کسی جانور میںیکجا کرکے اسے تصورمیںلائیں اور دیکھیں کہ وہ کتنا خوبصورت لگتا ہے؟!

افضل قربانی:

سنن نسائی میں مذکور ہے:

(( وَ قَدْ کَانَ اِذَا لَمْ یَنْحَرْ یَذْبَحُ بِالْمُصَلّٰی ) ) [1]

''جب کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اونٹ نہ ملتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی دوسرا جانور ذبح کرتے تھے۔''

معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمومًا اونٹ کی قربانی دیا کرتے تھے اور اسی کی کوشش کرتے، اگر وہ نہ ملتا تو پھر کوئی دوسرا جانور قربانی کے لیے ذبح کرتے تھے۔

اس حدیث اور صحیحین و مسند احمد کی بعض دیگر احادیث کے پیش نظر امام ابوحنیفہ، شافعی، احمد اور داود رحمہم اللہ کے نزدیک قربانی کے لیے سب سے افضل اونٹ، بھیڑ ، گائے، پھر مینڈھا (یادنبہ) اور پھر بکرے کا درجہ ہے۔

(دیکھیں: بلوغ الأماني: ۱۳/ ۶۶، ۶۷، ۶/ ۵۷)

قربانی کے جانور کو پالنا:

قربانی کا جانور خریدتے ہی یادو ایک دن یا اسی دن خرید کر بھی قربان کیا جاسکتا ہے، اس میں کوئی مضائقہ نہیں، لیکن اگر اسے کچھ مدت پہلے خرید کر اسے اچھی طرح کھلا پلا کر فربہ کیا جا سکے اور خوب پال کر قربانی کریں تو یہ زیادہ کار ثواب ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بھی یہی طرز عمل تھا، جیسا کہ صحیح بخاری شریف کے ایک ترجمۃ الباب میں حضرت ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا گیا ہے:

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت