فهرس الكتاب

الصفحة 115 من 212

قربانی کا فلسفہ اور بعض احکام

قرآن کریم میں

{ وَ لِتُکْمِلُوا الْعِدَّۃَ وَ لِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ھَدٰکُمْ وَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ} [البقرہ: ۱۸۵]

''اللہ چاہتا ہے تم روزوں کی گنتی پوری کر لو اور اللہ تعالی کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائیاں بیان کرو (تکبیریں کہو) اور اس کا شکر کرو۔''

{ فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَّرِیْضًا اَوْ بِہٖٓ اَذًی مِّنْ رَّاْسِہٖ فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَۃٍ اَوْ نُسُکٍ} [البقرہ: ۱۹۶]

''مگر جو شخص مریض ہو یا جس کے سر میں کوئی تکلیف ہو اور اس بنا پر اپنا سرمنڈوالے تو اسے چاہیے کہ فدیے کے طور پر روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے۔''

{ وَاذْکُرُوا اللّٰہَ فِیْٓ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ} [البقرہ: ۲۰۳]

''اور ان گنتی کے دنوں میں اللہ کا ذکر کرو (تکبیریں کہو) ۔''

{ قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ} [الأنعام: ۱۶۲]

''کہہ دیجیے کہ میری نماز، میری ساری عبادات (و قربانی) میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت