فهرس الكتاب

الصفحة 155 من 212

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جانور کو قبلہ رو کرکے ذبح و نحر کرنے کو مستحب سمجھتے تھے۔ مصنف عبدالرزاق میں صحیح سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کسی جانور کو غیر قبلہ کی طرف منہ کرکے ذبح کیا جاتا تو وہ اس کا گوشت کھانا پسند نہیں کرتے تھے۔ [1]

کھڑے اونٹ کو نحر کرنا:

اونٹ کا اگلا بایاں گھٹنا باندھ کر کھڑا کرکے نحر کرنے کا ثبوت قرآن کریم اور صحیح بخاری و مسلم میں مذکور ہے۔ چنانچہ ارشاد الٰہی ہے:

{ فَاذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْھَا صَوَآفَّ} [الحج: ۳۶]

''تم ان پر کھڑے ہونے کی حالت ہی میں اللہ کا نام لو۔''

ان الفاظ کا ترجمہ و تفسیر بیان کرتے ہوئے امام بخاری نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول تعلیقًا اور سعید بن منصور و عبد بن حمید نے اسے موصولًا بیان کیا ہے کہ {صواف} کا معنی ''قیامًا'' یعنی کھڑا کرنا ہے۔ [2]

اس طرح مذکورہ آیت کا معنی یہ ہوا کہ انھیں کھڑا کرکے ان پر اللہ کا نام لو، جسے تکبیر پڑھنا کہا جاتا ہے، اور یہی بوقتِ ذبح و نحر ''بسم اللّٰہ و اللّٰہ أکبر'' کہنا ہے۔ مذکورہ بالا آیت ہی میں آگے یہ بھی ارشاد ہے:

{ فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُھَا فَکُلُوْا مِنْھَا وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَ الْمُعْتَرَّ} [الحج: ۳۶]

[2] دیکھیں: نیل الأوطار ومنتقی الأخبار (۳/ ۵/ ۱۲۳) [مؤلف]

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت