فهرس الكتاب

الصفحة 112 من 212

میں اکٹھی ہوگئیں تو انھوں نے نماز عید کے لیے نکلنے میں اس قدر تاخیر کردی کہ سورج کافی چڑھ آیا، پھر وہ آئے اور خطبہ ارشاد فرمایا اور خطبہ سے فارغ ہوکر نماز عید پڑھائی۔ آگے وہ بیان کرتے ہیں:

(( وَلَمْ یُصَلِّ لِلنَّاسِ یَوْمَئِذِ نِ الْجُمُعَۃَ ) )

''اور اس دن لوگوں کونماز جمعہ نہیں پڑھائی۔''

حضرت وہب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ واقعہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ذکر کیا (جو اس عید کے دن طائف میں تھے) تو انھوں نے فرمایا:

(( اَصَابَ السُّنَّۃَ ) ) [1] ''انھوں نے سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق عمل کیا۔''

ان سب احادیث و آثار سے معلوم ہوا کہ جمعہ کے دن عید آجائے تو نماز جمعہ کی فرضیت ساقط ہو جاتی ہے، جو پڑھنا چاہے پڑھ لے اور جو نہ پڑھے اسے بھی گناہ نہیں ہوگا کیونکہ اس کی رخصت دے دی گئی ہے۔ علامہ ابن قیم، امام صنعانی، امام شوکانی، نواب صدیق حسن خان، شیخ البانی اور دیگر اہل علم کا یہی مسلک ہے۔ [2]

اصحابِ رخصت؟

کیا یہ رخصت سب کے لیے ہے؟ اس میں ائمہ و فقہاء کے مابین اختلاف پایا جاتاہے، مثلًا حنابلہ کے نزدیک جمعہ کی رخصت سب کے لیے ہے

[2] زاد المعاد (۲/ ۴۴۸بتحقیق الارناؤوط) الروضۃ الندیہ شرح الدرر البھیۃ (۱/ ۱۴۱، ۱۴۲ طبع دار المعرفتہ بیروت)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت