فهرس الكتاب

الصفحة 140 من 212

ان دونوں حدیثوں میں سے ایک میں اونٹ سات کی طرف سے جبکہ دوسری میں دس کی طرف سے مذکور ہے۔ اہل علم نے اس فرق کو یوں رفع کیا ہے کہ جس حدیث میں اونٹ بھی سات کی طرف سے ہے وہ حج کرنے والوں کی قربانی (ہدی) کے ساتھ ہے اور جس حدیث میں اونٹ دس کی طرف سے وارد ہوا ہے وہ عام قربانیوں کے بارے میں ہے۔ گائے ہدی و قربانی ہر شکل میں بالاتفاق سات کی طرف سے کفایت کرتی ہے۔

(نیل الأوطار: ۳/ ۵/ ۱۲۱، تحفۃ الأحوذي: ۳/ ۶۴۷، ۶۴۸، الفتح الرباني: ۱۳/ ۸۴، ۸۷، المرعاۃ: ۳/ ۳۶۲)

ایام قربانی:

قربانی کے معاملے میں تو یہ گنجائش بھی موجود ہے کہ عید کے دن ۱۰؍ ذوالحج تک اتفاق سے کسی کو توفیق نہ ہو سکے تو اگلے دن ۱۱؍ ذوالحج کو کرلے، گیارہ کو بھی نہ ہو سکے تو ۱۲؍ ذوالحج کو ہی سہی۔ یہ تین دن تو مشہور ہیں جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے تو اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ ۱۳؍ ذوالحج کو بھی قربانی کی جاسکتی ہے ۔ چنانچہ مسند احمد، سنن دار قطنی اور صحیح ابن حبان میں ارشادِ نبوی ہے:

(( کُلُّ اَیَّامِ التَّشْرِیْقِ ذِبْحٌ ) ) [1]

''ایام تشریق (۱۱، ۱۲، ۱۳ ذوالحج بھی سبھی) قربانی کے دن ہیں۔''

نیز حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے:

''اَیَّامُ النَّحْرِ یَوْمُ الْاَضْحٰی وَ ثَلاَثَۃُ اَیَّامٍ بَعْدَہٗ '' [2]

[2] علی رضی اللہ عنہ کے اس اثر کو ابن قیم رحمہ اللہ نے ''زاد المعاد'' (۲/ ۳۱۹) میں ذکر کیا ہے اور کسی کی طرف منسوب نہیں کیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت