فهرس الكتاب

الصفحة 86 من 212

ابی شیبہ و سنن بیہقی میں موصولًا مروی ہے:

(( اَمَرَ اَنَسُ بْنُ مَالِکٍ مَوْلاَھُمُ ابْنَ اَبِیْ عُتْبَۃَ بِالزَّاوِیَۃِ فَجَمَعَ اَھْلَہٗ وَبَنِیْہِ وَصَلّٰی کَمَا یُصَلُّوْنَ اَھْلُ الْمِصْرِ وَ کَبَّرَ تَکْبِیْرَہُمْ ) ) [1]

''حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اپنے آزاد کردہ غلام ابن ابی عتبہ کو حکم فرمایا اور (بصرہ کے قریبی مقام) زاویہ (میںواقع اپنے محل میں) تمام اہل و عیال کو جمع کیا اور انھیں اسی طرح نماز پڑھائی جیسے شہر والے پڑھتے ہیں اور انھیں کی طرح تکبیریں بھی کہیں۔''

اور سنن بیہقی میں ہے:

(( کَانَ اِذَا فَاتَہُ الْعِیْدُ مَعَ الْاِمَامِ جَمَعَ اَہْلَہٗ فَصَلّٰی بِھِمْ مِثْلَ صَلٰوۃِ الْاِمَامِ فِيْ الْعِیْدِ ) ) [2]

''حضرت انس رضی اللہ عنہ کی اگر امام کے ساتھ نماز عید رہ جاتی تو اپنے اہل و عیال کو اکٹھا کرکے امام کی نما ز عید کی طرح ہی نماز عید پڑھتے تھے۔''

اس اثر کو شیخ البانی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔ [3] جبکہ امام بخاری رحمہ اللہ کا اسے اپنی صحیح کے ایک ترجمہ میں لانا اور حافظ ابن حجر کا اس پر خاموشی اختیار کرنا کم از کم اس کے حسن درجہ کے ہونے کا پتہ دیتا ہے۔ نیز حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ کا ارشاد صحیح بخاری میں تعلیقًا اور مصنف ابن ابی شیبہ میں موصولًا مروی ہے، جس میں وہ فرماتے ہیں:

[2] سنن البیہقي (۳/ ۳۰۵)

[3] إرواء الغلیل (۳/ ۱۲۰)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت