فهرس الكتاب

الصفحة 186 من 248

''وَذَلِکَ أَنَّ بْعَضَ الْمَأْمُوْمِیْنَ جَھَرَ خَلْفَہٗ فَنَازَعَہٗ قِرَائَتَہٗ فَشَغَّلَہٗ،فَنَہَیٰ عَنِ الْجَہْرِ بِ القراءة فِيْ الصَّلَاۃِ خَلْفَہٗ'' [1]

''بعض مقتدیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے جہرًا قراء ت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراء ت میں الجھن پیدا کی،لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے جہری قراء ت سے منع فرمایا۔''

4۔ امام ابن حبان نے اپنی صحیح میں امام زہری رحمہ اللہ کے قول: ''فَانْتَہَی النَّاس''کا یہی معنی لکھا ہے: ''أَرَادَ بِہِ رَفْعَ الصَّوْتِ خَلْفَ الرَّسُوْلِ صلی اللّٰه علیہ وسلم'' [2]

''اس سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بلند آواز سے قراء ت کرنا ہے۔''

5۔ ''غیث الغمام حاشیہ إمام الکلام''میں مولانا عبد الحی نے (( مَا لِيْ اُنَازَعُ الْقُرْآنَ ) )کا معنی و مفہوم یوں لکھا ہے:

''فَہُوَ إِنْ دَلَّ عَلَی النَّہْيِ فَاِنَّمَا یَدُلُّ عَلَی نَہْیِ القراءة الْمُفْضِیَۃِ إِلَی الْمُنَازَعَۃِ فِيْ الْجَہْرِیَّۃِ'' [3]

''اس میں اگر کوئی دلیل ہے تو وہ اس بات کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہری قراء ت سے منع کیا تھا،جو جہری نماز میں منازعت کا باعث ہوتی ہے۔''

6۔ علامہ ابن عبد البر''التمہید''میں لکھتے ہیں:

''وَلَا تَکُوْنُ الْمُنَازَعَۃُ إِلَّا فِیْمَا جَہَرَ الْمَأْمُوْمُ وَرَائَ الْإِمَامِ'' [4]

''نماز میں منازعت صرف اسی صورت میں ہو سکتی ہے جب مقتدی امام

[2] الاحسان (۵؍۱۶۰)

[3] غیث الغمام (ص:۱۷۹) بحوالہ تحقیق (۲؍۱۱۴) توضیح (۲؍۳۸۱)

[4] التمھید (۱۱/۵۲)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت