فهرس الكتاب

الصفحة 187 من 248

کے پیچھے بلند آواز سے قراء ت کرے۔''

7۔ امام قرطبی نے تفسیر''الجامع لأحکام القرآن''میں (( مَا لِيْ اُنَازَعُ الْقُرْآنَ ) )کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:

''وَالْمَعْنٰی فِيْ حَدِیْثِہٖ: (( لَا تَجْہَرْ إِذَا جَہَرْتُ ) )فَاِنَّ ذَلِکَ تُنَازِعُ تُجَاذِبُ وَ تُخَالِجُ۔۔۔اِقْرَأُوْا فِيْ أَنْفُسِکُمْ یُبیِّنہُ حَدِیْثُ عُبَادَۃَ وَفُتْیَا الْفَارُوْقِ وَأَبِيْ ہُرَیْرَۃَ الرَّاوِيْ لِلْحَدِیْثَیْنِ فَلَوْ فَہِمَ الْمَنْعَ مِنْ قَوْلِہٖ: (( مَا لِيْ اُنَازَعُ الْقُرْآنَ ) )لَمَا أَفْتَیٰ بِخِلَافِہٖ'' [1]

''اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ جب میں جہرًا قراء ت کروں تو تم جہرًا نہ پڑھو،کیوں کہ یہ تلاوت میں الجھن کا باعث ہے،اپنے دل میں قراء ت کرو،یہ معنی عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث اورحضرت عمر فاروق اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کے فتوئوں سے واضح ہو رہا ہے جو ان دونوں حدیثوں کے راوی ہیں،اگر ان دونوں نے حدیث کے الفاظ: (( مَا لِيْ اُنَازَعُ الْقُرْآنَ ) )سے ممانعت کا معنی سمجھا ہوتا تو اس کے خلاف کبھی وہ فتویٰ نہ دیتے۔''

8۔ امام منذری کی مختصر سنن ابی داود پر شرح معالم السنن میں امام خطابی''اُنَازِعُ''کا معنی لکھتے ہیں:

''مَعْنَاہُ اُدَاخَلُ فِيْ الْقُرْآنِ وَ أُغَالَبُ فِیْہَا'' [2]

''قرآن پڑھنے میں مداخلت محسوس کرتا ہوں اورمغلوب ہو جاتا ہوں۔''

9۔ ماضی قریب کے عظیم مفسر،محدث اور مجتہد علامہ شوکانی نے نیل الاوطار میں

[2] معالم السنن (۱؍۱؍۱۷۸)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت