فهرس الكتاب

الصفحة 191 من 248

کے زیرِ عنوان اس روایت کے بارے میں لکھا ہے:

''مَشْہُوْرٌ مِنْ حَدِیْثِ جَابِرٍ وَلَہٗ طُرُقٌ عَنْ جَمَاعَۃٍ مِّنَ الصَّحَابَۃِ،وَ کُلُّھَا مَعْلُوْلَۃٌ'' [1]

''یہ حدیث جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مشہور ہے اوراس کے صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت سے کئی طُرق ہیں،لیکن سب کے سب معلول ہیں۔''

2۔ امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے اپنی تفسیرمیں اس روایت کے بارے میں لکھا ہے:

''وَقَدْ رُوِيَ ہَذَا الْحَدِیْثُ بِطُرُقٍ،وَلَا یَصِحُّ شَیْیٌٔ فِیْہَا عَنِ النَّبِيِّ صلی اللّٰه علیہ وسلم'' [2]

''یہ حدیث کئی طرق سے مروی ہے،لیکن ان میں سے کوئی ایک بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔''

3۔ امام قرطبی اپنی تفسیر''الجامع لأحکام القرآن''میں رقمطراز ہیں:

''اَمَّا قَوْلُہٗ صلی اللّٰه علیہ وسلم: (( مَنْ کَانَ لَہٗ إِمَامٌ فَقَرَائَۃُ الْإِمَامِ لَہُ قِرَائَۃٌ ) )فَحَدِیْثٌ ضَعِیْفٌ'' [3]

''البتہ یہ حدیث:''جس نے امام کے ساتھ نمازپڑھی،اس کے لیے امام کی قراء ت ہی کافی ہے۔''ضعیف ہے۔

4۔ امام ابن حزم نے''المحلّٰی''میں لکھا ہے:

''وَقَدْ جَائَتْ أَحَادِیْثٌ سَاقِطَۃٌ کُلُّھَا مِنْہَا (( مَنْ کَانَ لَہٗ إِمَام

[2] تفسیر ابن کثیر

[3] قرطبي (۱؍۱؍۸۶)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت