فهرس الكتاب

الصفحة 192 من 248

فَقِرَائَۃُ الْإِمَامِ لَہٗ قِرَائَۃٌ )) [1]

''اس سلسلے میں کتنی ہی ناقابلِ حجت احادیث مروی ہیں،جن میں سے (( مَنْ کَانَ لَہٗ إِمَامٌ فَقِرَائَ ۃُ الْإِمَامِ لَہٗ قِرَائَۃٌ ) )بھی ہے۔''

5۔ امام المحدثین،امام بخاری ''جزء القراءة''میں فرماتے ہیں:

''ہذا الجزء لم یثبت عند أہل العلم من أہل الحجاز و أہل العراق وغیرہم لإرسالہ وانقطاعہ'' [2]

''یہ حدیث حجاز و عراق کے کبار اہلِ علم کے نزدیک مرسل و منقطع ہونے کی وجہ سے ثابت نہیں۔''

6۔ امام المجد ابن تیمیہ نے''منتقی الأخبار''میں لکھا ہے:

''وقد روي مسندا من طرق کلھا ضعاف،والصحیح انہ مرسل'' [3]

''یہ روایت متعدد طرق سے بھی مروی ہے،مگروہ سب طرق ضعیف ہیں،صحیح یہ ہے کہ یہ مسند نہیں مرسل ہے۔''

7۔ علامہ ابن قیم نے مانعینِ قراء ت کے بارے میں اس حدیث کے تعلق سے''أعلام الموقعین''میں لکھا ہے:

''إنکم أخذتم بالحدیث الضعیف (( وہو من کان لہ إمام فقرائۃ الإمام لہ قرائۃ ) ) [4]

[2] جزء القراءة مع اردو ترجمہ (ص:۳۱)

[3] المنتقیٰ مع النیل (۱؍۲)

[4] أعلام الموقعین (۱؍۲؍۳۰۸) طبع دار الفکر بیروت۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت