فهرس الكتاب

الصفحة 130 من 454

ہے۔'' (الذاریات:۵۸ آیت کریمہ پیچھے گزر چکی ہے۔)

سلفی عقیدہ و منہج پر عمل پیرا یہ اہل السنۃ والجماعۃ والے اہل الحدیث اس بات پر بھی ایمانِ کامل و یقین محکم رکھتے ہیں کہ:بلاشبہ اللہ عزوجل اپنی تمام (نوری، ناری، ترابی وغیر ترابی) مخلوق سے الگ تھلگ (تصور سے بھی باہر) بہت دُور، ساتوں آسمانوں سے اُوپر اپنے عرشِ کریم پر مستوی ہے۔ [1] اوراُس نے ایک ایک چیز کا (اور ہرچیز کے ذرّے ذرے کا) اپنے علم سے احاطہ کر رکھا ہے۔ [2] (کوئی بھی چیز اور مخلوق کا کوئی بھی قول

اور یہ کہ: اللہ عزوجل سبحانہ و تعالیٰ کے اپنے عرشِ کریم پر مستوی ہونے کی کیفیت غیر معلوم، مجہول ہے ، اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذاتِ اقدس کے سوا اُسے کوئی نہیں جانتا۔ اور بمعنی:''اِسْتَقَرَّ ، عَلَا ، اِرْتَفَعَ'' اللہ تعالیٰ کی صفت ''استوٰی'' پر ایمان لانا، دلائل کے ثبوت کی بنا پر واجب ہے اور کیفیت و تمثیل کے بارے میں سوال کرنا بدعت و گمراہی ہے۔ اس لیے کہ استواء کی کیفیت اللہ رب العرش الکریم کے سوا کوئی نہیں جانتا اور یہ کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے اس ضمن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت بھی نہیں کیا تھا۔

[2] جیسا کہ اللہ عزوجل قرآن حکیم میں ارشاد فرماتے ہیں:

(۱) {وَ مَا تَکُوْنُ فِیْ شَاْنٍ وَّ مَا تَتْلُوْا مِنْہُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّ لَاتَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا کُنَّا عَلَیْکُمْ شُھُوْدًا اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْہِط وَ مَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِّکَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّۃٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآئِ وَلَآ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِکَ وَ لَآ اَکْبَرَ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ o } (یونس:۶۱) ''اور ـ (اے پیغمبرؐ) تو کسی حال میں ہو (کوئی کام کرتا ہو) اور قرآن میں سے کچھ بھی پڑھ کر سنائے اور (اے لوگو!) تم کوئی بھی کام کرو جب تم اس میں لگے رہتے ہو تو ہم تمہیں کو دیکھتے رہتے ہیں اور تیرے مالک سے ذرّہ برابر کوئی چیز چھپی نہیں ، نہ زمین میں نہ آسمان میں ۔ نہ ذرّہ سے کم نہ اس سے بڑی کوئی چیز ہے جو کھلی کتاب (لوح محفوظ) میں درج نہ ہو۔''

(۲) … وَ ھُوَ اللّٰہُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ ط یَعْلَمُ سِرَّکُمْ وَ جَھْرَکُمْ وَ یَعْلَمُ مَا (

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت