پانچویں اصل
اہل السنۃ والجماعۃ کے عقیدہ میں دوستی اور دشمنی کا معیار [1]
اور اہل السنۃ والجماعۃ سلفی جماعت حقہ اہل الحدیث کے سلف صالحین کے اصول
المعاداۃ کا لغوی معنی: یہ کلمہ عَادٰی ، یُعَادِی کے باب کا مصدر ہے ۔ اور عدائٌ وّعداوۃٌ: کا مطلب ہوتا ہے: سخت قسم کا جھگڑا اور دشمنی کی بنا پر دوری ۔ اور کسی کو تکلیف پہنچانے کے ارادے اور انتقام لینے کی بنا پر دل میں گھر کیے ہوئے ایک پختہ ارادے وشعور کا نام معاداۃ ہوتا ہے ۔ اور دشمن دوست کا ضد ہوتا ہے ۔ اسی معنی میں مختصر بات یہ ہے کہ: یہ معاداۃ اپنے دشمن سے دوری اور اختلاف کا سبب بنتی ہے اور یہ موالاۃ کے برعکس ہوتی ہے۔
موالاۃ و معاداۃ… دوستی اور دشمنی کا شرعی معنی: اصل موالاۃ تو محبت ہوتی ہے اور اصل معاداۃ: بغض وعداوت۔ ان دونوں سے دل کے اعمال و اشغال اوراعضاء بدن کے افعال سرزد ہوتے ہیں کہ جو موالاۃ ومعاداۃ کی حقیقت میں داخل ہو جاتے ہیں ۔ جیسے کہ مدد کرنا ، انس و محبت کرنا ، جہاد کرنا اور ہجرت کرنا ۔ تب موالاۃ کا معنی ہوگا: زبانی گفتگو ، (قول ) اعضاء بدن کے افعال و حرکات یا نیت وارادہ کے ذریعے کسی چیز کے قریب ہونا ۔ جبکہ معاداۃ کا مفہوم اس کے برعکس ہوگا ۔
یہاں ہم اس بات کو خوب جان لیں کہ: لغوی اور شرعی دونوں معانی میں ایک واضح فرق پایا جانا چاہیے ۔ اور وہ یہ ہے کہ اللہ رب العالمین نے اہل ایمان پر واجب کیا ہے کہ وہ: اپنی مکمل دوستی و محبت صرف اہل ایمان ، اپنے مسلمان بھائیوں کو ہی پیش کریں ۔ اسی طرح اپنی مکمل دشمنی (اللہ کے باغیوں ) کفار و مشرکین سے ہی رکھیں ۔ اور یہ کہ ان کی اپنے مسلمان ، اہل ایمان بھائیوں سے دوستی ہرگز پوری نہ ہوگی مگر یہ ہے کہ صرف مشرکین و کفار سے برأت کا اعلان کرکے اور یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں ۔