باتوں سے خوب آگاہ ہوں۔ اور جو کوئی تم میں ایسا کریگا (کافروں سے ددوستی رکھے گا) وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔''
اور اہل السنۃ والجماعۃ دوستی و محبت اور بغض وعداوت کے اعتبار سے تمام لوگوں کو تین حصوں میں تقسیم کرتے ہیں:
اور وہ تمام اہل ایمان ہو اکرتے ہیں کہ جو اللہ عزوجل (کی ذات اقدس ، اُس کی صفات عالیہ و اسمائے حسنیٰ اور اس کی اُلوہیت) اور اس کے رسول (محمد النبی الکریم کہ جو خاتم الانبیاء والمرسلین ہیں صلی اللہ علیہ وسلم) پر پختہ ایمان لاتے ہیں اور اللہ عزوجل کے لیے دین حنیف کے شعائر کو مخلص و خالص کرتے ہوئے ان کا قیام عمل میں لاتے ہیں۔ چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں:
{إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ 55} وَمَن يَتَوَلَّ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا فَإِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغَالِبُونَ (المائدۃ:۵۵تا ۵۶)
'' (مسلمانو یہود اور نصاریٰ تمہارے دوست نہیں ہو سکتے) تمہارے دوست اللہ تعالیٰ، اس کا رسول اور ایمان والے ہیں جو درستی سے نماز کو ادا کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں۔ وہ جھکتے رہتے ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور ایمان والوں سے دوستی رکھے گا (وہ اللہ تعالیٰ کے گروہ میں ہے) اور اللہ ہی کا گروہ غالب رہے گا۔ '' [1]
پس صحیح یہ ہے کہ یہ آیت عام مومنین کے حق میں نازل ہوئی ہے اور حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ بن صامت اور ان کے رفقا اس آیت کے اولین مصداق ہیں جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہو دکی موالاۃ سے براء ت کا اعلان کر دیا تھا۔ امام ابوجعفر محمد بن علی بن حسین رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ وَلِیُّکُمْ… سے مراد حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی من جملہ مومنین کے ہیں ۔ یعنی یہ آیت سب مومنین کے حق میں ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ یہاں اقامۃ الصلوٰۃ… الخ میں جو صفات مذکور ہیں ان سے کیا مقصد ہے؟ تو ہم کہتے ہیں کہ مذکورہ صفات سے منافقین پر طنز مقصود ہے جو ان صفات سے عاری تھے۔ (تفسیر کبیر)
شیعہ حضرات ان دو آیتوں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت بلا فصل ثابت کرتے ہیں ۔ ان کے استدلال کا مدار تو اس بات پر ہے کہ یہ آیت خاص کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حق میں نازل ہوئی ہے مگر ہم نے یہ ثابت کیا ہے کہ آیت عبادہ بن صامت اور ان کے رفقا رضی اللہ عنہم کے حق میں نازل ہوئی ہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ فی الجملہ ان میں داخل ہیں ۔ اس کے علاوہ جب اس آیت میں تمام صیغے جمع کے ہیں ۔ تو پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کیسے مراد ہو سکتے ہیں اور پھر جب آیت کے نزول کے ساتھ ہی مومنین کی ولایت ثابت ہو گئی تو نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد تک اس کو ملتوی رکھنا بے معنی ہے۔ نیزولی کے معنی دوست اور مدد گار کے بھی آتے ہیں والی اور متصرف کے بھی۔ سیاق و سباق معنی اول کا موّید ہے تو بلا قرینہ سیاق کے خلاف دوسرے معنی لینے کے لیے کونسی وجوہ جواز ہو سکتی ہے۔ امام رازی رحمہ اللہ نے آٹھ دلائل سے ثابت کیا ہے کہ آیت میں ولی کے پہلے معنی مراد ہیں اور دوسرے معنی دلائل کے خلاف ہیں ۔ (تفسیر کبیر)