کو پہنچی ہوئی دلیل (قرآن و سنت والی) بہت مضبوط ہے۔ انہیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب عزیز کی اتباع اور معززو مکرم نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اقتداء کی توفیق عطا کر رکھی ہے۔ ان کے دلوں کو اپنے نبی اور ان کی سنتوں سے محبت کے لیے کھول رکھا ہے۔ اسی طرح ان کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے آئمہ دین کی محبت کے لیے بھی کھول رکھا ہے اور امت کے ان تمام علماء عظام وکرام کی محبت کے لیے بھی کہ جو خالصتًا قرآن و سنت پر عمل کرنے والے ہوں۔ اصول یہ ہے کہ ؛ جو شخص جس قوم کے ساتھ محبت کرے گا تو وہ بھی انہیں کے ساتھ شمار ہو گا۔ ''جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( اَلْمَرْئُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ ) )'' آدمی انہیں کے ساتھ شمار ہوتا ہے کہ جن سے وہ محبت کرے۔ '' [1]
تو جو شخص سیّد الجِنّۃ والبشر ، خاتم الانبیاء والرسل ، اشرف الخلائق بعد اللہ الخالق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ، آپ کے تمام ساتھیوں ، بلاتفریق سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تابعین عظام ، اتباع تابعین کرام ، آئمۃ الہدیٰ و علماء الشریعۃ، سب زمانوں سے افضل قرون ثلاثۃ الاولیٰ کے اہل الحدیث والاثر اور ان کی اِتّباع کرنے والے آج تک کے تمام آئمہ کرام و علماء عظام رحمہم اللہ جمیعًا سے محبت کرے اور انہیں کے طریق و منہج کو اختیار کرے … جان لیجیے کہ:وہی صاحب سنت ، اہل السنۃ والجماعۃ کافرد ہے۔ (اور جو ایسا نہیں تو وہ ''سنی '' نہیں بلکہ ان بہتر فرقوں میں سے کسی ایک کے ساتھ تعلق رکھنے والا ہوگا جن کے بارے میں صحیح احادیث کے اندر وعید آئی ہے۔) [2]
[2] بدعتی امام کے پیچھے نماز کا حکم: جان لیجیے کہ ؛ اس مسئلہ میں اہل السنۃ والجماعۃ کے اقوال کا خلاصہ درج ذیل ہے ۔ (۱) … اصلی کافر و مرتد کے پیچھے نماز قطعًا جائز نہیں ہے۔ (ب) … مستور الحال شخص کے پیچھے اور وہ شخص کہ جس کے عقیدہ و عمل کے متعلق علم نہ ہو …نماز کا ترک کرنا بدعت ہے ۔ ایسے افراد کے پیچھے نماز کا چھوڑنا علماء سلف صالحین میں سے کسی سے بھی منقول نہیں ہے ۔ (ج) … بدعتی امام کے پیچھے نماز سے روکنے والی اصل …اس کی بدعت کو بہت قبیح فعل شمار کرنے اور اس سے نفرت کرنے ، کروانے کی بناء پر ہے ۔ اہل بدعت پر نماز جنازہ کا حکم: یہاں ایک اور مسئلہ سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ اور وہ یہ کہ: بلاشبہ جو شخص اصلًا کافر ہو کر مرے یا مرتد ہو کر مرے یا کسی کی بدعت کے ذریعے کسی دوسرے شخص کو کافر بنا دیا جائے اور اُس پر دلیل و حجت قائم ہو جائے تو بلاشک و شبہ نہ ہی اُس کی نما ز جنازہ پڑھی جائے گی اور نہ ہی اس پر رحم کھایا جائے گا۔ (کہ اس کے لیے اللہ سے مغفرت و بخشش کی دعا کی جائے ۔ ) یہ علماء امت کا متفق علیہ ، بالاجماع فیصلہ ہے۔ اور جو آدمی اس حال میں فوت ہوا کہ وہ کبیرہ گناہ کے ذریعے گنہگار تھا یا کسی ایسی بدعت کا مرتکب رہا تھا کہ جو دین اسلام سے خارج نہ کرے تو مسلمان ، مومن حاکم وقت اور اس عالم کے لیے بھی کہ جس کی اقتداء کی جائے…لوگوں کو ڈانٹ پلانے اور ان کو مرنے والے کے کبیرہ گناہ اور اس کی بدعت سے خبردار کرنے کے لیے …بلاشبہ اس کے لیے مشروع ہے کہ وہ ایسے آدمی کا جنازہ نہ پڑھے ۔ مگر باقی سب لوگوں کے لیے یہ حرمت جائز نہیں ہے۔ بلکہ وہ اس کا جنازہ بھی پڑھیں اور اس کے لیے فرض کفایہ کے طور پر دعا بھی کریں ۔ بشرطیکہ وہ کافر ہو کر نہ مرے اور نہ ہی ان لوگوں میں اس کا شمار ہوتا ہو کہ جن پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنے کا فیصلہ اللہ کی طرف سے ہوا ہے ۔