فهرس الكتاب

الصفحة 159 من 454

ہی مکمل اطاعت اور عدم نافرمانی پر ہوتی ہے۔ اللہ رب العالمین نے انھیں اپنی عبادت اور اپنے اوامر و احکام کی تنقیذ کے لیے پید افرمایا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

{وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَـٰنُ وَلَدًا سُبْحَانَهُ ۚ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُونَ 26} لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُم بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ {27} يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَىٰ وَهُم مِّنْ خَشْيَتِهِ مُشْفِقُونَ (الانبیاء:۲۶ تا ۲۸)

''اور کا فر کہتے ہیں اللہ الرحمن کی اولاد ہے۔ وہ (ایسی باتوں سے) پاک ہے (فرشتے اس کی بیٹیاں نہیں ہیں) بلکہ سرفراز بندے ہیں (جن کو اُس نے عزت دی ہے) اور وہ اس کے سامنے بڑھ کر بات نہیں کر سکتے۔ اور وہ اس کے حکم پر چلتے ہیں۔ اس کو معلوم ہے جو ان کے آگے ہے اورجو ان کے پیچھے ہے۔ اور وہ (فرشتے) کسی کی سفارشں نہیں کر سکتے مگر جس کے لیے اللہ کی مرضی ہو۔ اور وہ اس کی ہیبت سے کا نپ رہے ہیں (اس کے جلال سے ڈر رہے ہیں) ۔'' [1]

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت