الحدیث جماعۃ حَقہ والے سلفی لوگ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ:اللہ عزوجل کے بعد نبی مکرم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اطہر اور آپ کی سنت مطہرہ دنیا جہان کے تمام لوگوں حتی کہ اپنی جان سے بھی زیادہ اول و افضل اور زیادہ محبوب ہو جائے ، تب ایمان مکمل ہوتا ہے۔
چنانچہ قرآن کہہ رہا ہے:
'' (اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم) تیر ے پروردگارکی قسم! (اللہ تعالیٰ خود اپنی قسم کھا کر فرما رہے ہیں) وہ مومن نہ ہوں گے جب تک اپنے جھگڑوں کا فیصلہ تجھ سے نہ کرائیں۔ پھر تیرے فیصلے سے ان کے دلوں میں کچھ اداسی نہ ہو اور وہ (خوشی خوشی) مان کر منظور کر لیں۔ '' [1] (النساء:۶۵ آیت پیچھے گزر چکی ہے۔)
ساداتنا انس بن مالک اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( وَالّذِيْ نَفْسِيْ بِیَدِہٖ: لاَ یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّی أَکُوْنَ أَحَبَّ إِلَیْہِ مِنْ وَالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ ) ) (صحیح البخاری ، کتاب الایمان، حدیث:۱۴،۱۵ ۔ صحیح مسلم ، کتاب الایمان ، حدیث:۱۶۹) ''اس ذات اقدس (اللہ رب العالمین) کی قسم کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ؛ تم میں سے کوئی شخص تب تک ایمان والا نہیں ہو سکتا حتی کہ میں اُس کے نزدیک اس کے باپ (اور اس درجہ کے تمام عزیز و اقارب) اور اس کی اولاد (اور اس درجہ کے تمام اس کے رشتہ دار) اور دنیا جہان کے دیگر تمام لوگوں سے زیادہ پیارا ، پسندیدہ اور محبوب ہو جاؤں ۔ ''
کتب احادیث میں اس موضوع پر بیسیوں احادیث مبارکہ موجودہیں اور بعض میں اس بات کی بھی صراحت ہے کہ: ''اس کی اپنی جان سے زیادہ پیارا ہو جاؤں ۔ ''