فهرس الكتاب

الصفحة 255 من 454

جس شخص کو اللہ تعالیٰ (اس آدمی کی اپنی ہٹ دھرمی ، سرکشی ، جہالت ، ضدمحض اور اندھی تقلید کی وجہ سے) گمراہ کردے (اس لیے کہ وہ خود بھی یہی چاہتا ہے۔) تو اس کے لیے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے خلاف نہ کوئی حجت اور دلیل ہے اور نہ ہی اس کے اپنے پاس کوئی (اپنی گمراہی کا) عذر ہے۔ [1] اس لیے کہ بلاشبہ اللہ عزوجل تو قطع حجت کے لیے لگاتار

یعنی جب وہ اپنے شرک اور مجرمانہ روش پر قائم رہنے کی دلیل نہیں پاتے تو تقدیر کا سہارا لے کر کہتے ہیں کہ ہمارے حق میں خود اللہ کی مرضی یہ ہے کہ ہم شرک کریں ۔ اور جو چیزیں ہم نے حرام ٹھہرائی ہیں انہیں حرام ٹھہرائیں ۔ کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ کی مرضی نہ ہوتی تو ہم سے ان اعمال کاصدور ممکن نہ تھا۔ ہم جو کچھ کررہے ہیں اللہ کی مرضی کے مطابق کر رہے ہیں یہ سب کچھ صحیح اور حق ہے۔ مطلب یہ کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی مشیت کو شرک اور محرمات کی صحت پر بطور دلیل پیش کیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی مشیت و ارادہ اس کی رضا اور مشروعیت کو مستلزم ہیں ۔ یہی ان کی سب سے بڑی غلطی تھی ۔ اس لیے کہ یہی تو پیغمبروں کی تکذیب کو مستلزم ہے۔

تنبیہ:… معتزلہ کے نزدیک بھی مشیت و ارادہ ، رضا اور امر کو مستلزم ہیں ۔ جبکہ اہل سنت کے نزدیک ان میں استلزام نہیں ہے۔ (روح المعانی)

یعنی تم جو یہ عذر پیش کررہے ہو وہ کسی عقلی اور علمی بنیا دپر قائم نہیں ہے بلکہ محض تخمینہ اور گمان ہے۔ تم اللہ پر بہتان باندھتے ہو۔ (ابن کثیر)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت