فهرس الكتاب

الصفحة 26 من 454

کو مضبوطی سے پکڑ لو اور (ایک دوسرے سے) جدا جدا نہ ہو جاؤ۔''

اورپھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے صراطِ مستقیم کا معیار و شرطِ اوّلیں بھی عقیدۂ توحید خالص کو قرار دیا ہے۔ چنانچہ فرمایا:

{وَمَن يَعْتَصِم بِاللّٰهِ فَقَدْ هُدِيَ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ} (آل عمران:۱۰۱)

''اور جو کوئی آدمی اللہ (کے دین حق اور شریعت مطہرہ) کو عملًا محکم پکڑ لے گا تو وہ بالتحقیق ضرور سیدھی راہ (قرآن و سنت والے صراطِ مستقیم) پر لگ گیا۔''

دوسرے مقام پر قرآن و سنت والے دین حنیف کے مضبوط کڑے کو عملًا پکڑے رہنے والوں کی پہچان یوں بیان فرمائی ہے:

{فَمَن يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنۘ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىٰ لَا انفِصَامَ لَهَاۗۗوَاللّٰهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ} (البقرہ:۲۵۶)

''تو جو کوئی باطل معبود (اور شیطانی سازشوں ، کاوشوں) کا انکار کرے اور اللہ عزوجل پر ایمان لائے تو یقینا اس نے (قرآن و سنت والے صراطِ مستقیم کے) مضبوط کڑے کو عملًا تھام لیا کہ جسے کسی صورت میں بھی ٹوٹنا نہیں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ تو سب کچھ سننے والا ، سب کچھ جاننے والا ہے۔''

مگر جیسا کہ اللہ عزوجل نے یہود و نصاریٰ کے احبار و راھبین اور ان کے علماء و قائدین کی یہ خصلت بد بیان فرمائی ہے:

{إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللّٰهِ الْإِسْلَامُ وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ وَمَن يَكْفُرْ بِآيَاتِ اللّٰهِ فَإِنَّ اللّٰهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ} (آل عمران:۱۹)

''بلاشبہ اللہ عزوجل کے نزدیک (نہایت پسندیدہ اور ہر اعتبار سے مکمل ترین)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت