فهرس الكتاب

الصفحة 273 من 454

الْقُلُوْبِ وَصَدَّقَتْہُ الْأَعْمَالُ… )) [1]

''ایمان صرف آراستہ و مزین ہونے (یا کسی ایک آدھ خوبی سے متصف ہونے) کا نام نہیں ہے اور نہ ہی آرزو مند ہونے کا۔ (جیسے کہ صرف خواہش کرتے رہنا ، کاش لوگ ایسے ہو جائیں ، کاش میں فلاں اچھا کام کر لیتا وغیرہ وغیرہ) بلکہ ایمان وہ ہے جو دلوں میں گھر کر جائے او ر اعمالِ صالحہ اُس کی تصدیق کریں۔''

امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

(( اَلْاِیْمَانُ قَوْلٌ وَّعَمَلٌ ، یَزِیْدُ وَیَنْقُصُ ، یَزِیْدُ بِالطَّاعَۃِ وَیَنْقُصُ بِالْمَعْصِیَۃِ ، ثُمَّ تَـلَا: {وَیَزْدَادَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا إِیْمَانًاط} [المدثر:۳۱] ) ) [2]

''ایمان قول و عمل دونوں کے مجموعہ کا نام ہے جو بڑھتا بھی ہے اور کم بھی ہوتا ہے۔ یہ اطاعت و فرمانبرداری کے ساتھ بڑھتا اور معصیت و نافرمانی کے ساتھ کم ہو جاتا ہے۔ اور پھر آپ رحمہ اللہ نے اس آیت کی بطورِ دلیل تلاوت فرمائی:''اور ایمان والوں کا ایمان بڑھ جاتا ہے۔''

حافظ ابو عمر ابن عبدالبر رحمہ اللہ اپنی مشہور و معروف کتاب ''التمہید '' (شرح مؤطا امام مالک رحمہ اللہ) میں لکھتے ہیں:

(( أَجْمَعَ اَھْلُ الْفِقْہِ وَالْحَدِیْثِ عَلَی اَنَّ الْاِیْمَانَ قَوْلٌ وَّ عَمَلٌ، وَلَا عَمَلَ اِلَّابِنِیَّۃٍ، وَالْاِیْمَانُ عِنْدَھُمْ یَذِیْدُ بِالطَّاعَۃِ، وَیَنْقُضُ بِالْمَعْصِیَۃِ وَالطَّاعَاتُ کُلُّھَا عِنْدَھُمْاِیْمَانٌ ) ) [3]

[2] دیکھیے: فتح الباری جلد ۱ ، ص: ۶۲ ، کتاب الایمان۔

[3] انظر:کتاب الایمان؍ للشیخ الاسلام ابن تیمیۃ رحمہ اللہ ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت