فهرس الكتاب

الصفحة 286 من 454

شک و شبہ کا ازالہ کر کے۔ اور اس معاملہ کا تعلق خفیہ اُمور سے ہے نہ کہ ظاہری اُمور سے۔ پھر وہ کسی معین آدمی کی تکفیر نہیں کرتے مگر یہ کہ جب اُس میں کفر والی تمام شروط متحقق ہو جائیں اور اس ضمن میں تمام موانع دُور ہو جائیں۔ [1]

سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:میں نے خود سماعت کیا ؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( کَانَ رَجُلَانِ فِیْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ مُتَوَاخِیَیْنِ ، فَکَانَ أَحَدُھُمَا یُذْنِبُ، وَالْآخَرُ مُجْتَھِدٌ فِی الْعِبَادَۃِ، فَکَانَ لَا یَزَالُ الْمُجْتَہِدُ یَرَی الْآخَرَ عَلَی الذَّنْبِ، فَیَقُوْلُ:أَقْصِرْ، فَوَجَدہُ یَوْمًا عَلَی ذَنْبٍ:فَقَالَ لَہُ:أَقْصِرْ، فَقَالَ:خَلِّنِیْ وَرَبِّیْ أَبُعِثْتَ عَلَیَّ رَقِیْبًا؟ فَقَالَ:وَاللّٰہِ ! لَا یَغْفِرُ اللّٰہُ لَکَ۔ اَوْ لَا یُدْخِلُکَ اللّٰہُ الْجَنَّۃَ! فَقُبِضَ اَرْوَاحُھُمَا ، فَاجْتَمَعَا عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ، فَقَالَ لِہٰذَا الْمُجْتَہِدِ:أَکُنْتَ بِیْ عَالِمًا، أَوْکُنْتَ عَلَی مَا فِی یَدَیَّ قَادِرًا؟ وَقَالَ لِلْمُذْنِبِ:إِذْہَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّۃَ بِرَحْمَتِیْ، وَقَالَ لِلْآخَرِ:اِذْہَبُوْا بِہِ اِلَی النَّارِ ) )قَالَ اَبُوْہُرَیْرَۃَ:وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ! لَتَکَلَّمَ بِکَلِمَۃٍ اَوْبَقَتْ دُنْیَاہُ وَ آخِرَتَہُ )) [2]

[2] صحیح سنن ابی داؤد للٔالبانی؍ کتاب الادب ؍ باب النہی عن البغی حدیث:۴۹۰۱۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت