إِلَيْكُم مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللّٰهُ بِأَمْرِهِ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ (التوبہ:۲۴)
'' (میرے حبیب و خیل نبی! میرے بندوں سے) کہہ دیجیے کہ:اگر تمہارے باپ دادا، بیٹے پوتے، (نواسے) بھائی، بی بیاں ، خاندان والے اور جو مال تم نے کمائے ہیں اور جس سوداگری کے گھاٹا پڑ جانے سے تم ڈرتے ہو اور جن مکانوں کو تم پسند کرتے ہو، اگر تمہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ عزیز ہیں تو پھر انتظار کرو حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم بھیجے اور (تم تباہ کردیے جاؤ) اللہ تعالیٰ گنہگاروں کو راہ پر نہیں لگاتا۔'' [1]
دوسرے مقام پر ایک فرمان یوں ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِم بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوا بِمَا جَاءَكُم مِّنَ الْحَقِّ يُخْرِجُونَ الرَّسُولَ
یہ دونوں آیتیں مسلمانوں کے کسی خاص گروہ یا واقعہ سے متعلق نہیں ہیں بلکہ عام اور ہر زمانے کے لیے ہیں ۔ ان میں تمام مسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت انہیں دنیا کی ہر چیز سے زیادہ ہونی چاہیے حتی کہ اگر کبھی ایسا ہو کہ ایک طرف اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہو اور دین اسلام کو بچانے کے لیے جان ومال سب کچھ قربان کر دینے کی ضرورت ہو اور دوسری طرف ماں باپ اور دیگر خویش و اقارب کی محبت ہو، مالی اور دوسرے دنیوی مفادات و خطرات سد ِ راہ ہو رہے ہوں تو مسلمان کا فرض ہے کہ وہ ہر شخص اور ہر مصلحت سے بے پرواہ ہو کر اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی پیروی کرے اور کوئی دنیاوی مفاد یا خطرہ ایسا نہیں ہونا چاہیے جو اسے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے باز رکھ سکے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر آن ہر شکل میں عذاب آ سکتا ہے۔ مثلا دشمنوں سے مغلوب کر کے یا تم پر ظالم حکمران مسلط کرکے یا تمہیں ذلت و رسوائی سے دو چار کرکے۔ یہی مضمون ہے جس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی متعدد احادیث میں بار بار واضح فرمایا ہے۔ مثلا صحیح بخَاری میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے والد، بیٹے اور تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہو جاؤں ۔ ( ابن کثیر ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !سوائے اپنی جان کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں ۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کی جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں ۔ فرمایا: '' ہاں عمر رضی اللہ عنہ اب تیرا ایمان معتبر ہے۔ (بخاری) ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جہاد کی ترغیب دیتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم بیلوں کی دم پکڑ کر کھیتی باڑی پر راضی ہو جاؤ گے اور جہاد چھوڑ بیٹھو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر ایسی ذلت مسلط کرے گا جس سے اس وقت تک کبھی نہ نکل سکو گے جب تک اپنے دین، جہاد فی سبیل اللہ کی طرف واپس نہیں آ جاؤ گے۔ ( ابن کثیر بحوالہ ابوداؤد )