[1] فرماتے ہیں:
{أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ 62} الَّذِينَ آمَنُوا
معجزہ کی حقیقت: لغت میں عاجز کر دینے اور تھکا دینے والی چیز کو معجزہ کہتے ہیں ۔اور اسلامی اصطلاح میں معجزہ ایسے عمل کا نام ہے جو سلسلۂ اسباب کے بغیر عالمِ وجود میں آجائے ۔ اللہ تعالیٰ کے قوانین قدرت یا نوامیسِ فطرت کی دو اقسام ہیں ۔نمبر ۱:عادتِ عام (سنۃ اللہ) اور نمبر ۲:عادتِ خاص (معجزہ) عادتِ عام سے قدرت کے وہ تمام قوانیں اور اصول مراد ہیں جو اسباب و مسببات کے سلسلہ میں باہم جکڑے ہوئے ہیں ۔مثلًا آگ کا کام ہے جلانا اورپانی کا ٹھنڈک و تراوت پہنچانا ۔اسی طرح جاندار چیزیں اپنی جنس سے ہی تولیدی عمل مکمل کر کے پید اہوتی ہیں ،متضاد جنسوں سے ہر گز نہیں ۔مگر جب کبھی ایسا ہو جائے کہ یدِ قدرت (اللہ تعالیٰ) نے کسی خاص مقصد کے لیے سبب اور مسبب کے درمیانی تعلق و عمل کو الگ کر دیا ہو یا بغیر اسباب کے کسی چیز کو وجود بخش دیا ہوتو یہ اس کی عادتِ خاص ہوئی۔ جیسے کہ اونٹنی کا چٹان سے پیدا ہو جانا اور اللہ کے خلیل سیدنا ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کا کئی دنوں کے بعد آگ سے صحیح سلامت باہر آجانا وغیرہ وغیرہ۔
اس طرح کے عمل چونکہ عام نگاہوں میں قانونِ قدرت سے ہٹ کر ہوتے ہیں اس لیے جب ایسا کوئی کام رونما ہوتا ہے یا اس کے وجودپذیر ہونے کی اطلاع دی جاتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ یہ قدرت کے قانون یا عادت اللہ کے خلاف ہے (یا خرقِ عادت کام ہے ۔) حالانکہ ایسانہیں ہے۔ بلکہ وہ قوانین فطرت کی پہلی قسم ،یعنی عادتِ عام کے خلاف تو ہوتا ہے مگر ''عادتِ خاص''کے خلاف نہیں ہوتا ۔بلکہ وہ بھی قانونِ قدرت کی ایک کڑی ہوتی ہے ۔جو عام حالات سے الگ کسی خاص مقصد کو پورا کرنے کے لیے ظاہر کی جاتی ہے اور عرف عام میں اسے ''معجزہ''کہا جاتا ہے ۔
معجزہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے سچے رسول اور پیغمبر کی صداقت و حقانیت کی تصدیق کرتا اور جھٹلانے والوں کو یہ باور کراتا ہے کہ اگر یہ مدعی نبوت اپنے دعوے میں صادق نہ ہوتا تو اس کی تائید کبھی (