فهرس الكتاب

الصفحة 359 من 454

اور جہاں تک اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی معصیت و نافرمانی میں اُن کی اطاعت کا تعلق ہے تو یہ قطعًا جائز نہیں۔ ایسا اُس حکم کی بنا پر ہے جو اس ضمن میں بصورت نہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعًا مروی ہے۔ چنانچہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( اَلسَّمُعُ وَالطَّاعَۃُ عَلیَ الْمَرْئِ الْمُسْلِمِ فِیْمَا أَحَبَّ وَکَرِہِ مَالَمْ یُؤْمَرْ بِمَعْصِیَۃٍ، فَاِذَا اُمِرَ بِمَعْصِیَۃٍ فَلاَ سَمْعَ وَلَا طَاعَۃَ۔وقال:لاَ طاَعَۃَ فِی مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ اِنمَّا الطَّاعَۃُ فِی الْمَعْرُوْفِ ) )

''مسلمان آدمی پر (اپنے امیر کی) بات سننا اور اطاعت کرنا ہر اُس کام میں ہے کہ جسے وہ پسند کرے یا جس کو ناپسند بھی کرے۔ اِلاّ یہ کہ جب تک اُسے نافرمانی و معصیت کا حکم نہیں دیا جاتا۔ جب اُسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حکم کی نافرمانی کا حکم دیا جائے تو پھر نہ ہی اس کی بات کو سننا ہے اور نہ ہی اُس کی اطاعت ہے۔ '' [1]

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت