فهرس الكتاب

الصفحة 108 من 452

درجے میں ہیں اب اس گھر میں جس طرح یہ دولہا کے ماں باپ ہیں دلہن کے بھی ماں باپ ہیں۔ ماں باپ کے لیے بھی ضروری ہے کہ آنے والی دلہن کو بیٹی کی حیثیت دیں اور بیٹیوں والی شفقت اور پیار اسے دیں، اسی طرح عورت بھی ان کو زبان ہی سے اَمی ، اَبّو نہ کہے بلکہ دل کی گہرائیوں سے ان کو ماں باپ والا احترام (پروٹوکول) دے، ان کے ساتھ گستاخانہ رویہ کسی حال میں بھی روانہ رکھے، ساس اس کو امورخانہ کے بارے میں جو ہدایات دے ، ان کو بہ صمیم قلب قبول کرے ، ان کو بروئے کار لانے میں عملًا کوئی کوتاہی نہ کرے ، ساس کو بار بار سمجھانے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ یہ ضرورت اسی وقت پیش آتی ہے جب بہو ان ہدایات کی نہ پرواہی کرتی ہے اور نہ ان ہدایات کی روشنی میں اپنا رویہ ہی تبدیل کرتی ہے حالانکہ ان ہدایات کا مقصد عام طور پر بہو کی اصلاح،گھر کی اصلاح اور روز مرہ کے معمولات میں پیش آنے والی کوتاہیوں کی اصلاح ہوتی ہے ۔ ان ہدایات کی پابندی اور سنجیدگی سے ان پرعمل کرنے سے بہو کے کردار ہی میں بہتری آتی ہے اور گھر والوں کی نظر میں اس کی عزت اور احترام میں اضافہ ہی ہوتاہے۔

لیکن بار بار کے سمجھانے کے باوجود اگر بہو اپنی اصلاح نہیں کرتی تو اس سے یقینًا وہ گھر والوں کی نظر میں اس احترام سے محروم ہوجاتی ہے جو اس کا حق ہے اور جو اس کو اس گھر میں ملنا چاہیے۔ لیکن اس کی وجہ اس کی اپنی کوتاہی ہے جو کسی سمجھدار بہو سے متوقع نہیں ہے ، علاوہ ازیں بہو کا یہ کردار بھی گستاخی پر مبنی ہے، ساس ، جو بمنزلہ ماں ہے ، اس کو ایک بات بار بار سمجھاتی ہے لیکن وہ اس کو اختیار نہیں کرتی، اس کے مطابق اپنی اصلاح نہیں کرتی تو یقینًا یہ گستاخی ہے جس کی نہ شرعًا اس کو اجازت ہے نہ اخلاقًا اور نہ مصلحتًا ۔

مصلحت تو اسی میں ہے کہ وہ ساس کی سمجھائی ہوئی باتوں کو اہمیت دے ، آخر اب دلہن نے اسی گھر میں رہنا ہے تو پانی میں رہ کر مگر مچھ سے بیر رکھنا کوئی دانش مندی نہیں ہے۔ ساس کا قرار واقعی احترام کرکے اس کے دل میں اپنامقام اور اپنا وقار بنائے، یہی دانش مندی ہے ، یہی عزت ووقار کا باعث اور امن وسکون کی خوشگوار فضا قائم کرنے اور قائم رکھنے کا ذریعہ ہے ، اسی میں خاوند کی بھی رضا مندی ہے اور اس کی رضامندی، احکام شریعت کی پابندی کے بعد ، جنت کی ضمانت ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت