فهرس الكتاب

الصفحة 256 من 452

اور اس کے ورثاء کو ملے گا، ہاں جو چیز کسی کو کچھ عرصے کے لئے دی جائے ، مثلًا چند سال کے لئے مقرر کرکے دے دی گئی، وہ مقرر کردہ وقت کے بعد واپس آجائے گی۔

خلاصہ یہ ہے کہ زندگی میں ہبہ کے ذریعے کسی کو وارث بنانا شرعًا جائز ،لیکن اس میں بھی عادلانہ قوانین اسلام ہی کا امتیاز ہیں ۔

(2) وفات کے بعد کسی کا وارث بننا

زندگی میں کوئی شخص کسی کو اپنا مال ہبہ کرسکتا ہے اس کی تفصیل کے بعداب ہم میت کی وفات کے بعد تقسیم وراثت میں اسلام کے نظام عدل کو بیان کرتے ہیںجوکہ ہر پہلو سے جھلکتا نظر آتا ہے۔

تقسیم وراثت سے قبل کے عادلانہ پہلو

تقسیم وراثت سے قبل تین شروط کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے۔جن کی موجودگی میں تقسیمِ وراثت صحیح ہوگی ورنہ نہیں۔ (1) مورَّث (جس کا وارث بنا جارہا ہے) کی موت کا ثابت ہونا ،یا ایسا مفقود کہ جس کے بارے میں قاضی میت سمجھ لینے کا فیصلہ دے دے۔ (2) وارث کی زندگی کا ثابت ہونا (3) جس بنیاد پر وارث بناجارہا ہے اس کا اثبات۔

ان تینوں شروط کے تعین سے عدل کا معاملہ واضح طور پر جھلک رہاہےکیونکہ ان شروط کےتعین کا مقصود یہی ہے کہ کسی قسم کی زیادتی اور ظلم نہ ہو۔ مثلًا

پہلی شرط:میت کے موت کے یقینی یا حکمًا اثبات کی شرط میں میت کے ساتھ عدل کو ملحوظ رکھا گیا ہے کہ کہیں کوئی دھوکہ دیتے ہوئے کسی کی عدم موجودگی کا ناجائز فائدہ اٹھاکر اس کی وراثت کو تقسیم نہ کردے۔

ووسر ی شرط: وارث کی زندگی کا ثابت ہونا،اس میں تمام ورثاء کے ساتھ عدل کو ملحوظ رکھا گیا ہےکیونکہ مورث کی زندگی میں جو فوت ہوجائے وہ شرعًا وارث نہیں بن سکتا،تو اس میں تمام زندہ ورثاء کے ساتھ عدل ہے۔

تیسری شرط:جس سبب سے وہ وارث بن رہا ہے اس کا ثابت ہونا جوکہ تین ہیں ، مثلًا وراثت

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت